0

ناممکن کو ممکن بنائیے* /تحریر / نوید شہزاد*

*عنوان:* *ناممکن کو ممکن بنائیے*
*تحریر: نوید شہزاد*

محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے صرف سات سال میں ملکِ پاکستان کو نیوکلیئر پاور بنا ڈالا.

1977ء میں Voyager کو خلائی سفر پر روانہ کیا گیا. اپنے بارہ سالہ سفر کے بعد وہ Neptune تک پہنچا. جی ہاں! بارہ سال کا سفر، بارہ ارب کلومیٹر کا فاصلہ اور اپنے ہدف کے 100 کلومیٹر کے آس پاس. یاد رہے کہ ہمارے پاس اس دور میں درمیان سفر کسی خرابی کو دور کرنے کا کوئی طریقہ اور ذریعہ نہیں تھا.

اسی طرح تصانیف کے میدان میں :محمد بن نصر مروزی فرماتے ہیں : میں نے یحیی بن معین کو یہ فرماتے سنا : ” میں نے اپنے ہاتھ سے دس لاکھ احادیث کی کتابت کی ہے.” اس توصیف میں یحیی بن معین اکیلے نہیں ہیں، بلکہ امام علی بن مدینی، امام احمد بن حنبل، امام بخاری، امام مسلم، امام ابوداؤد، امام ترمذی، امام نسائی اور دیگر بھی اسی لڑی کے موتی ہیں.

امام ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شاگردوں سے پوچھا : کیا تم تفسیر قرآن کے لیے تیار ہو؟
شاگرد پوچھنے لگے : حضرت وہ کتنی ہو گی؟
استاد نے فرمایا : 30 ہزار اوراق.
شاگرد کہنے لگے : حضرت! اس کی تکمیل سے قبل ہی عمریں فنا ہو جائیں گی.
تو استادِ محترم نے اسے مختصر کر کے 3 ہزار اوراق میں کر دیا. اور سات سال میں لکھوائی 283 ھ سے لیکر 290 ھ تک.
پھر ایک دن شاگردوں سے پوچھا : کیا تم آدم علیہ السلام سے لیکر آج تک کی تاریخ عالم لکھنے کے لیے تیار ہو ؟
شاگردوں نے پوچھا وہ کتنی ہو گی؟
تو جتنا تفسیر کے بارے میں فرمایا تھا ویسا ہی فرمایا تو شاگردوں نے پھر وہی گزارش کی تو فرمانے لگے : اناللّہ! ہمتیں پست ہو گئیں. پھر تفسیر کی طرح اسے بھی مختصر کر دیا.
ابن جریر طبری رحمۃ اللہ نے اپنی 86 سالہ زندگی میں تین لاکھ اٹھاون ہزار صفحات لکھے.
امام ابن جوزی کے نام سے مشہور (امام ابوالفرج عبدالرحمن بن جوزی رح) نے اپنی سٹوڈنٹ لائف میں 20 ہزار کتابوں کا مطالعہ کیا تھا. ایک جگہ ارشاد فرماتے ہیں : ” میں نے اپنی ان دو انگلیوں سے 2 ہزار جلدیں لکھی ہیں.”
امام محمد رحمۃاللہ علیہ کی تصانیف ایک ہزار کے قریب ہیں.
اب سوال یہ ہے کہ ایسے ناممکنات کو ممکن کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
اس کے لیے دو خوبیوں کا ہونا ضروری ہے ایک ” مستقل مزاجی/ مسلسل کوشش” اور دوسری” وقت کی اہمیت ” کا احساس ہونا ضروری ہے.
مستقل مزاجی کو تیمور لنگ کے زمانے کی ایک چیونٹی سے سمجھتے ہیں.
مشہور ہے کہ تیمور لنگ جب شکست خوردہ، افسردہ اور ہزیمت زدہ ایک غار میں بیٹھا اپنی شکست اور ذلت و رسوائی کے اسباب پر غور کر رہا تھا. ان سوچوں میں گُم سُم تھا کہ کھویا ہوا وقار اور اقتدار کیسے دوبارہ حاصل کرے. اس کی نگاہ دیوار پر چڑھتی ایک چیونٹی پر پڑی کہ وہ اوپر جانا چاہتی ہے مگر گر جاتی ہے. عجب تماشا ہے کہ وہ ان بلندیوں کے سامنے کم ہمت نہیں تھی. ہر بار گر کر نئے عزم کے ساتھ، نئے سرے سے اوپر چڑھ کر اپنی منزلِ مقصود تک پہنچنا چاہتی ہے. غرض وہ گرتی رہی اور چڑھنے کی کوشش کرتی رہی اور تیمور لنگ گنتا رہا. تعجب کی انتہا نہ رہی کہ اب چیونٹی سوویں مرتبہ کوشش کرنے چلی ہے. کیا دیکھا کہ منزل تک پہنچ گئی.
تیمور لنگ نے اس چیونٹی سے ہمت اور جذبہ پایا اور ہندوستان میں مغلیہ خاندان کی حکومت کی بنیاد رکھی.
اسی طرح سلطان محمود غزنوی نے سومنات کے مندر کو فتح کرنے کے لیے ہندوستان پر سترہ حملے کیے ان سترہ حملوں میں لگنے والا وقت 30 سال ہے لیکن اپنی فتح کو یقینی بنایا.
سچ ہے کہ کامیابی کی یقین والوں کے ساتھ یاری ہے.
دوسرا” وقت کی اہمیت ” کو درج ذیل مثالوں سے سمجھتے ہیں.
نپولین کی فتوحات کا ایک راز تھا، وہ کہا کرتا تھا کہ اہل اسڑیا کو میں نے اس طرح فتح کیا کہ انہیں پانچ منٹ کی قدروقیمت معلوم نہ تھی.
اسی طرح نپولین کو “واٹر لو” کے میدان میں شکست کی وجہ بھی یہ سامنے آئی کہ لڑائی کی صبح نپولین اور اسکے جرنیل “کروگی” نے چند بیش قیمت لمحات ضائع کر دیئے تھے. اور مخالف جرنیل “بلوشر” میدان جنگ میں وقت پر پہنچ گیا تھا.
وقت کی تہہ میں افراد اور قوموں کی ترقیوں کا راز مضمر ہے.
اس وقت مسلم معاشرہ مجموعی طور پر ضیاعِ وقت کی آفت کا شکار ہے. یورپی معاشرہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود وقت کا قدرداں ہے اور زندگی کو ایک نظام کے تحت گزارنے کا پابند ہے، علم و فن اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ان کی ترقیوں کا ایک بڑا سبب یہی ہے.
جو قومیں وقت کی قدر کرنا جانتی ہیں وہ صحراؤں کو گلشن میں تبدیل کر سکتی ہیں، وہ فضاؤں پر قبضہ کر سکتی ہیں، وہ عناصر کو مسخر کر سکتی ہیں، وہ پہاڑوں کے جگر پاش پاش کر سکتی ہیں، وہ ستاروں پر کمندیں ڈال سکتی ہیں، وہ زمانہ کی زمامِ قیادت سنبھال سکتی ہیں.

جو قومیں وقت کو ضائع کر دیتی ہیں، وقت انہیں ضائع کر دیتا ہے ایسی قومیں غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں،وہ دین اور دنیا دونوں اعتبار سے خسارے میں رہتی ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں