ایک شام سنی کانفرنس بلکسر کے نام ازقلم اسامہ معاویہ
81ویں سالانہ سنی کانفرنس بلکسر میں پہلی مرتبہ بطور نقیب میری شرکت دراصل ایک ایسا اعزاز اور تجربہ تھا جسے بیان کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ یہ کانفرنس محض ایک معمولی اجتماع نہیں بلکہ روحانیت، علم اور اخوت کے رنگوں سے آراستہ ایک ایسا عظیم الشان اجتماع ہے جو ہر سال اپنے پیچھے ناقابلِ فراموش یادیں چھوڑ جاتا ہے۔ جب میں نے اس اجتماع میں قدم رکھا تو دل کے اندر عجیب سی سرشاری کی کیفیت پیدا ہوئی، ایک ایسا وجدانی احساس جو میری توقعات سے کہیں بڑھ کر تھا۔ یہ احساس گویا اعلان کر رہا تھا کہ آج کا دن میری زندگی کے حسین ترین دنوں میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا
علماء کرام اور دینی رفقاء سے ملاقاتیں اس اجتماع کی سب سے بڑی روح ہیں۔ اس سال مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی کہ میں نے جلیل القدر شخصیات کی قربت اور صحبت سے استفادہ کیا۔ مولانا عبدالجبار سلفی، رانا عثمان قصوری، مولانا آصف معاویہ سیال اور مولانا ضیغم خبیب چشتی جیسے علماء سے ملاقات نہ صرف علمی محفل کی رونق کا سبب بنی بلکہ دل کی گہرائیوں کو بھی ایک نئی تازگی عطا کر گئی۔ عصر کے بعد جب ہم کمرے میں بیٹھے تو محفل کا رنگ مزید نکھر گیا۔ مولانا ضیغم چشتی، مولانا سید اسعد معاویہ اور مولانا یاسر اقبال کی موجودگی نے محفل کو علمی، فکری اور دوستانہ خوشبو سے معطر کر دیا۔ گپ شپ، تبادلۂ خیال اور علمی موضوعات پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہا اور اس دوران بھائی شہباز کیانی اپنی مہمان نوازی سے سب کے دل جیتتے رہے۔ ان کی طرف سے پیش کی جانے والی چاۓ اور بسکٹ محفل کی مٹھاس کو اور بڑھا گئے۔
مغرب سے کچھ ہی دیر قبل یہ اطلاع ملی کہ مولانا یاسر اقبال کے چھوٹے بھائی ابوبکر طوفانی اور اسامہ ضیاء، جو رمضان ٹرانسمیشن کے دوران مجھ سے رابطے میں رہے، ملاقات کے لیے آرہے ہیں۔ یہ خبر سنتے ہی دل میں ایک خوشگوار جوش پیدا ہوا اور جب یہ دونوں بھائی تشریف لائے تو ملاقات محبت و اخوت کے جذبے سے لبریز تھی۔ وہ لمحہ ایک نئے رشتے کی بنیاد بنا۔ ابھی ہم باتوں میں مصروف ہی تھے کہ اذانِ مغرب کی آواز گونجنے لگی اور ہر کوئی نماز کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔ نماز کے بعد بھائی شہباز کیانی نے قریب آکر آہستہ سے کہا کہ اب آپ کو اسٹیج پر لے جانا ہے، تیاری کر لیجیے۔
مسجد کا اسٹیج اپنے اندر ایک خاص جلال رکھتا تھا۔ روشنیوں سے جگمگاتا ماحول، عقیدت سے لبریز چہرے اور ایمان سے معمور دلوں کا ہجوم۔ اسٹیج پر پہنچتے ہی حذیفہ بھائی نے نہایت محبت اور عزت کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ جیسے ہی نظر دوڑائی تو عوام کا ایک سمندر نظر آیا۔ ان میں کئی ایسے چہرے بھی تھے جو برسوں سے میرا پروگرام سنتے رہے اور آج پہلی بار روبرو ہونے کا شرف ملا۔ ہر ایک نے آگے بڑھ کر اپنا تعارف کروایا، اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کیا اور ساتھ ہی تصاویر لینے کی خواہش کا بھی۔ میں نے ہر ایک کے ساتھ خوش دلی سے وقت گزارا اور یہ لمحات یادگار بنا دیے۔ اسی دوران میری نظر مولانا اسعد معاویہ شاہ، مولانا یاسر اقبال، ابوبکر طوفانی، اسامہ ضیاء، مولانا عمیر ، نظیر سلطان اور بھاٸی ظفر آف چکملوک پر پڑی تو یہ لمحہ بھی قیمتی تصاویر میں محفوظ کر لیا گیا۔
اس کے بعد وقت آیا نقابت کے اصل مرحلے کا۔ میں نے بسم اللہ کرتے ہوئے کانفرنس کی چوتھی اور آخری نشست کا آغاز کیا۔ تلاوت اور نعت سے محفل کو معطر کرنے کے بعد میں نے خطاب کے لیے مولانا ضیغم خبیب چشتی کو دعوت دی۔ انہوں نے آغاز میں چند خوبصورت کلمات کہے اور پھر ایک ایسا جملہ فرمایا جو میرے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی و مسلکی کانفرنس ہو اور نقیب کا ننگے سر ہونا زیب نہیں دیتا۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے شفقت بھرے انداز میں میرے کندھے پر ہاتھ رکھا، دعائیں دیں اور بطور اعزاز اپنے دستِ مبارک سے سندھی ٹوپی پہنا دی۔ یہ لمحہ میرے لیے محض ایک یاد نہیں بلکہ ایک زندگی بھر کا سرمایہ اور اعزاز تھا جو ہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔
کانفرنس اپنے شیڈول کے مطابق آگے بڑھتی رہی۔ مقررین کی تقاریر، عوام کا جوش و خروش، علماء کی بصیرت افروز گفتگو اور ہر پہلو سے اعلیٰ درجے کا انتظام۔ دعا کے ساتھ جب کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی تو دل میں یہ احساس جاگزیں ہوا کہ یہ سب کچھ مولانا مخلص عبداللہ کی انتھک محنت اور اخلاص کا مظہر ہے۔ ان کی محنت نے کانفرنس کو وہ مقام عطا کیا جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اس کے بعد مولانا یاسر اقبال بھائی کے ساتھ پھر سے مہمان خوانے میں پہنچے۔ اس وقت بھوک بھی شدت اختیار کر چکی تھی۔ کھانے کا اہتمام نہایت محبت سے کیا گیا اور اس محفل میں اسامہ ضیاء، ابوبکر طوفانی، عثمان حیات وڑائچ، حافظ ساجد اور ذیشان چاریاری موجود تھے۔ کھانے کے دوران خوشگوار باتیں اور ہنسی مذاق نے محفل کو مزید رنگین کر دیا۔ کھانے کے بعد مولانا یاسر اقبال کی محبت بھری دعوت پر ہم قریبی گاؤں کوٹیرہ روانہ ہوئے جہاں انہوں نے امامت و خطابت کے فراٸض سر انجام دے رہے ہیں۔ وہاں کی رات پُر کیف گزری، محفلیں جمیں، خوشگواری اور دوستانہ ماحول نے اس سفر کو مزید حسین بنا دیا۔ اگلی صبح جب بہترین ناشتے نے مہمان نوازی کی تکمیل کی تو یہ تجربہ اپنی تکمیل کو پہنچا
بلکسر میں ایک اور بات واضح طور پر سامنے آئی کہ میرے پروگرام کے سننے والوں کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود ہے۔ کئی خواتین و حضرات نے واٹس ایپ اور میسنجر پر رابطہ کیا، ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ جن سے ملاقات ممکن ہوئی، ان کی محبت کا شکریہ اور جن سے ملاقات نہ ہو پائی ان سے دلی معذرت۔ دل چاہتا ہے کہ ہر ایک سے ملاقات کا موقع ملے۔ ان سب میں سب سے زیادہ شکریہ میں اپنی ننھی سی فین، نہم کلاس کی طالبہ کنیز عائشہ کا ادا کرتا ہوں جس نے اپنی معصوم محبت اور ایک قیمتی تحفے سے میرے دل کو خوشی سے بھر دیا۔
اس کانفرنس نے مجھے ایک بار پھر یہ یقین عطا کیا کہ علم، محبت اور اخوت کی طاقت ہر دل کو روشن کر سکتی ہے۔ یہ اجتماع صرف ایک مذہبی کانفرنس نہ تھا بلکہ ایک ایسا مرکز تھا جہاں ایمان تازہ ہوا، رشتے مضبوط ہوئے، اور محبت و اخوت کے چراغ جل اٹھے۔ یہ وہ تجربہ ہے جسے الفاظ کے سانچے میں مکمل طور پر ڈھالنا ممکن نہیں، کیونکہ اس کے حسن اور عظمت کو صرف دل ہی محسوس کر سکتا ہے