پانی کی بے رحم موجیں اور انتظامیہ کی دلیری/تحریر/محمد مدثر دلشاد/ فکرفردا
جب بارشیں بے قابو ہو جائیں اور دریا اپنی سرحدیں توڑ دیں تو زمین پر ایک ایسا منظر ابھرتا ہے جسے دیکھ کر دل دہل جاتا ہے۔ کھڑی فصلیں پانی میں غرق ہو جاتیں، مچھلی کے فارمز اجڑ جاتے، مکانات زمین بوس ہو جاتے اور انسان اپنی ہی بستی میں اجنبی بن جاتا ہے۔ یہی حال ہمارے ملک کے بیشتر علاقوں کا ہوا۔ کسانوں کی سال بھر کی محنت لمحوں میں بہہ گئی، روزی کمانے والے فارمرز تہی دست ہو گئے اور کئی خاندان چھت سے محروم ہو کر امدادی کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ پانی کی بے رحم موجوں نے قیامت صغری برپا کردی۔حالیہ بارشوں اور سیلاب نے ہمارے علاقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ کھیت کھلیان پانی میں ڈوب گئے، سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں برباد ہو گئیں اور کسان ہاتھ ملتے رہ گئے۔ مچھلی کے فارمز جن پر سینکڑوں گھرانوں کا روزگار وابستہ تھا وہ بھی پانی کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہو گئے۔ دیہات میں کئی مکانات زمین بوس ہو گئے، لوگ اپنے سر پر چھت سے محروم ہو گۓ۔ نقصان اتنا ہوا کہ تخمینہ لگانا ناممکن ہے۔ یہ سب ہمارے لیۓ شدید ترین آزمائش ہے ۔ اس أزمائش کے کچھ انتظامی وجوہات بھی ہیں اور کچھ ہماری عملی زندگی کی شامت بھی۔قرآن میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا۔(خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہوگیاان برائیوں کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائیں تاکہ الله انہیں ان کے بعض کاموں کا مزہ چکھائے تاکہ وہ باز آجائیں ۔)
ان حالات کے یقینی طور پر ظاہری اسباب اور وجوہات بھی ہیں انتظامیہ کے غلط فیصلے، نااہل عہدیدار، نکمی حکومت اور عوام الناس میں شعور کا فقدان اس کے باوجود یہ آیت ہمیں بتا رہی ہے کہ اپنے اعمال پر غور کرو اپنی زندگی کے شب و روز دیکھو اپنے کاروبار اور انفرادی و اجتماعی معاملات دیکھو ان پہ غور کرو اور اللہ کی طرف لوٹ آؤ۔ زمین کا حق ادا کرو اس کا عشر ادا کرو اپنے کاروبار کی زکوۃ ادا کرو وراثت کے حصے ٹھیک ٹھیک ادا کرو کسی کا حق نہ مارو کسی کو دھوکا نہ دو ۔ اب ہم غور کریں ہماری زندگیوں میں ان اعمال کی کیا حیثیت ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی حدیث میں ہے جس کا مفہوم ہے کہ جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو سب کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہے اچھے بھی اور برے بھی ہاں آخرت میں ان کی تقسیم ہوگی۔ دوسری جگہ اللہ تعالی فرماتے ہیں۔﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الأَموَالِ وَالأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴾ (البقرة: 155)
ترجمہ: “اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف، بھوک اور مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور خوشخبری ہے صبر کرنے والوں کے لیے۔”
یہ آیت ہمیں تسلی دیتی ہے اور صبر کی تلقین بھی۔ یقینا جن کا نقصان ہوا وہ ناقابل تلافی ہے لیکن ہمیں اللہ کے خزانوں سے صبر کے دامن کو تھام کہ لینا ہے۔
جہاں یہ آفت برپا ہوئ وہاں لوگوں کی ہمدردی ان کا تعاون ان کی خیرخواہی اور فکر نے ایک بار پھر باور کرایا کہ ہم۔سب ایک ہیں ہم سب تمام فرق بھول کر انسانیت کے خاطر اور اللہ کی رضا کے لیے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
علاقائ ایم پی اے جناب اچمل خان چانڈیہ صاحب کو ہر میدان میں پیش پیش دیکھا گیا۔ وہ کہیں فلڈ بند پہ پہرہ دے رہے ہیں تو کہیں متاثرین میں سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ وہ صبح میں لاہور پارلیمان میں ووٹ ثبت کررہے ہوتے ہیں تو دوپہر سے پہلے وہ متاثرین میں کھڑے خدمات انجام دے رہے ہوتے تھے۔ جہاں ان کو خبر ملی وہ فورا وہیں پہنچے کسی نے کہا کہ فلڈ بند کمزور ہے وہ مشینری لے کر پہنچے کسی نے کہا کشتیوں کی ضرورت ہے وہ خود کشتیاں لے کر پہنچے کسی نے انتظامی طور پہ بلایا وہ دن رات دیکھے بغیر وہاں پہنچے ۔ لیل و نھار ایک کرکہ انہوں نے اپنی عوام کی بے لوث خدمت کر کہ انہوں نے تاریخ رقم کی اور دوسرے لوگوں کی لیے چلنے کی ایک بہترین راہ بھی دکھائ۔
اسی طرح اس میدان میں جماعت اسلامی کی” الخدمت” بھی پیش پیش تھی۔ بغیر سیاسی پشت پناہی کہ انہوں نے جو خدمات سرانجام دیں وہ قابل دید ہیں۔ الخدمت کے رضا کار بغیر کسی لالچ کے ہر وقت ہردم ہر جگہ نظر آۓ۔ انہوں نے کیمپس لگاۓ ادویات کی فراہمی ، کھانے پینے کی فراہمی ہر طرح کی مدد کی ۔ الخدمت فاؤنڈیشن مظفرگڑھ کے ضدر رانا شمشاد احمد جو خود اس سیلاب میں اپنے فش فارمز کے بھاری نقصان سے گزرے اور کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کیا اس کے باوجود ان کی خدمات میں کمی نہیں آئ۔ وہ ہر میدان میں اپنے لوگوں کے لیۓ نظر آۓ کہیں ادویات دے رہے ہیں تو کہیں لوگوں کو ریسیکو کررہے ہیں ۔ کہیں راشن کی تقسیم کررہے ہیں۔ کہیں خیمہ بستی لگا رہے ہیں تو کہیں ان۔میں موجود لوگوں کو اپنے ہاتھوں سے کھانا تقسیم کرکہ دے رہے ہیں ۔ یہ جذبہ یہ فکر فرمان رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی عکاسی کرتا ہے جس۔میں حضور نے فرمایا تھامَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ، مَثَلُ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ، تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى” (بخاری و مسلم)
ترجمہ: “مومنوں کی مثال آپس کی محبت، رحمت اور ہمدردی میں ایک جسم کی سی ہے؛ اگر جسم کے ایک حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم بخار اور بے خوابی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔”
اسی طرح ریسکیو 1122 کے نوجوانوں نے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کہ لوگوں کی مدد کی۔ پولیس اہلکار، فوجی جوان غرض ہر کوی اپنے متاثرین بھائیوں کے لیے پیش پیش تھا۔ مولانا طارق جمیل فاؤنڈیشن نے بھی مضافاتی علاقے میں خیمہ بستی لگائ خیمے تقسیم کیۓ۔ صاف پانی کی فراہمی کی جانوروں کے لیۓ چارہ کا انتظام کیا۔ غرض سیاسی ادارہ ہو یا فلاحی اعلی عہدیداران ہوں یا عوام الناس سب نے اسلامی بھائ چارے کا اعلی ثبوت پیش کیا ۔
جو نقصانات ہوے وہ ناقابل تلافی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں دریائے راوی، ستلج اور چناب میں شدید سیلاب کے باعث اب تک 101 شہری جاں بحق ہوچکے، 4 ہزار 700 سے زائد موضع جات اور 45 لاکھ 70 ہزار افراد متاثر ہوئے، سیلاب میں پھنسنے والے 25 لاکھ 12 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ کھیت کھلیان ، گھر ، باغات، فش فارمز کا ھونے والا نقصان تو اعداد و شمار سے باہر ہے ۔ ریلیف کیمپوں میں راشن، خیمے اور ادویات فراہم کی گئی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب وقتی سہولتیں ہیں۔ کسان اپنی فصل کی بحالی چاہتا ہے، فارمر اپنے اجڑے ہوئے فارمز کی مرمت چاہتا ہے اور بے گھر خاندان اپنے ٹوٹے مکانوں کے بدلے نئی چھت چاہتے ہیں۔
یہ وقت ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ حقیقی خدمت کیا ہے؟ صرف عارضی راشن نہیں بلکہ پائیدار بحالی کے منصوبے، تاکہ متاثرین دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ یہی وہ عمل ہے جو آزمائش کو رحمت میں بدل سکتا ہے۔سیلاب کی یہ آزمائش ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قدرتی آفات محض حادثہ نہیں بلکہ ہمارے لیے تنبیہ اور امتحان بھی ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہے:
﴿وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ﴾ (الشورى: 30)
یعنی “تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے، اور اللہ بہت سی باتوں کو معاف بھی فرما دیتا ہے۔
اس لیے ہمیں چاہیے کہ انتظامی طور پر مضبوط ڈیموں کی تعمیر، نکاسیٔ آب کا نظام بہتر بنانے، اور ریسکیو اداروں کو جدید سہولتوں سے لیس کرنے پر فوری توجہ دی جائے۔ جبکہ انفرادی سطح پر ہمیں اپنے گھروں اور کھیتوں کے قریب نکاسی کے راستے کھلے رکھنے، شجرکاری کو فروغ دینے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“المؤمن للمؤمن كالبنيان يشد بعضه بعضاً” (بخاری و مسلم)
یعنی “مومن مومن کے لیے دیوار کی مانند ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو سہارا دیتا ہے۔”
اگر ہم اجتماعی اور انفرادی طور پر اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور اپنی روزمرہ کی زندگی کو شریعت کے احکامات کے تابع کردیں تو ان شاء اللہ اللہ ہمیں ہر ناگہانی آفتوں سے محفوظ رکھے گا۔
پانی کی بے رحم موجیں اور انتظامیہ کی دلیری/تحریر/محمد مدثر دلشاد/ فکرفردا