0

صبر : برداشت کی خاموشی یا یقین کی روشنی /تحریر/ام عبد الرحمن

صبر: برداشت کی خاموشی یا یقین کی روشنی؟”
تحریر/ ام عبدالرحمن

صبر” کا لفظ سنتے ہی اکثر ہمارے ذہن میں خاموش برداشت، بے بسی یا بےچارگی کا تصور آتا ہے۔ لیکن قرآن و سنت کی روشنی میں صبر صرف چپ رہنے کا نام نہیں — بلکہ یہ یقین، دعا، حرکت، امید اور رضا کے ساتھ جڑا ہوا ایک زندہ، فعال عمل ہے۔ یہ مضمون صبر کو اسی نئے زاویے سے سمجھنے اور جینے کی دعوت ہے۔

صبر کے بارے میں ایک گہرا اور تلخ تاثر بہت عام ہے —
“صبر انسان کو گھلا رہا ہوتا ہے”
یہ بات اکثر ان دلوں سے نکلتی ہے جو درد، تنہائی اور خاموشی کی گزرگاہوں سے ہو کر آئے ہوتے ہیں۔
لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں صبر کا اصل جوہر ظاہر ہوتا ہے۔
میں بھی اس بات سے متفق ہوں کہ:
●صبر وہ وقت ہوتا ہے جب دل رو رہا ہوتا ہے، لیکن زبان خاموش ہوتی ہے۔
●صبر وہ لمحے ہوتے ہیں جب جواب نہیں ملتا — بس “اللہ بہتر جانتا ہے” کہنا پڑتا ہے۔
●صبر وہ کیفیت ہے جب انسان ٹوٹنے کے قریب ہوتا ہے، مگر خود کو جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
●صبر بظاہر خاموشی سہی، مگر اندر ایک جنگ ہوتی ہے — خوابوں، خواہشات، اور کبھی تقدیر کے لکھے پر چپ چاپ راضی ہونے کی جنگ۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ:
صبر انسان کو توڑتا نہیں، تراشتا ہے۔
اکثر لوگ اس تراش کو صرف درد سمجھ کر گزر جاتے ہیں، مگر درحقیقت یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جہاں انسان کی اصل تعمیر ہوتی ہے۔
صبر عام نہیں، خاص دلوں کا زیور ہے
صبر اگر آسان ہوتا، تو ہر کوئی کر لیتا۔
لیکن اللہ نے صبر کو اُن خاص دلوں کا زیور بنایا ہے:
●جو دھوپ میں بھی سایہ کر جائیں،
●جو آزمائش میں بھی وقار سے کھڑے رہیں۔
قرآن کہتا ہے:
“وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللَّهِ”
“صبر کرو، اور تمہارا صبر اللہ کی مدد سے ہی ہے۔”
(سورۃ النحل: 127)
یعنی صبر، خود سے نہیں ہوتا —
یہ اللہ کی طرف سے ایک خاص تحفہ ہے،
جو انسان کو وقت کے ساتھ نرم بھی کرتا ہے، اور نکھارتا بھی ہے۔
صبر نکھارتا کیسے ہے؟
صبر عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے:
“ثابت قدمی، خود پر قابو، اور آزمائش کے وقت جذبات و اعمال کا توازن۔”
صبر کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ:
انسان اندر سے ٹوٹ جائے،
گھل جائے،
یا صرف درد سہتا رہے۔
اگر کوئی کیفیت انسان کو توڑ دے، بے مقصد چھوڑ دے یا اندر سے کھوکھلا کر دے —
تو وہ صبر نہیں، بلکہ بے بسی یا دباؤ ہوتا ہے۔
قرآن کہتا ہے:
“وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ”
“صبر اور نماز سے مدد لو۔”
(البقرہ 2:45)
یہاں صبر کو طاقت، سہارا، اور روحانی ذریعہ کہا گیا ہے —
نہ کہ ایسا بوجھ جو انسان کو تھکا دے۔
لہذا یہاں یہ بات تو واضح ہے کہ صبر:
* انسان کے جذبات پر قابو دیتا ہے۔
* جلد بازی سے بچاتا ہے۔
* آزمائش میں استقامت بخشتا ہے۔
* اندرونی سکون عطا کرتا ہے۔
اب اگر کسی کو یہ صبر گھلا رہا ہے، توڑ رہا ہے، اندر سے کمزور کر رہا ہے یا اسے صبر کرنا مشکل لگ رہا ہے تو درحقیقت یہ:
●یا تو “نہ سمجھا ہوا صبر” ہے،
●یا “دباؤ ” ہے جسے انسان صبر سمجھ رہا ہے،
●یا کوئی زبردستی برداشت کی ہوئی تکلیف ہے جس کا حل تلاش نہیں کیا گیا۔
لہذا حقیقی صبر تو ہے
1. پختگی – جو آزمائش میں انسان کو مضبوط بنائے، توڑے نہیں۔
2. یقین – اللہ کی رضا، مدد، اور انصاف پر یقین رکھنا۔
3. حرکت– صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کچھ نہ کرے؛ بلکہ صبر کے ساتھ صحیح اقدام اٹھانا بھی شامل ہے۔
4. تسلیم و رضا – جو چیز انسان کے اختیار سے باہر ہو، اُس پر اللہ کی رضا پر راضی ہو
صبر اگر انسان کو اندر سے روشنی نہ دے — تو شاید ہمیں اس صبر کو سمجھنے، یا اس پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پختگی ، یقین ،حرکت ، تسلیم و رضا اور دعا — یہ سب صبر کے بعد آتی ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے:
یہ سب وہ کرنیں ہیں جو صبر کے بعد نہیں بلکہ صبر کے ساتھ ساتھ پھوٹتی ہیں اور ان کے بغیر صبر نامکمل ہوتا ہے۔
اگر صبر میں یقین نہ ہو — تو وہ مایوسی بن جاتا ہے۔
اگر صبر میں حرکت نہ ہو — تو وہ جمود بن جاتا ہے۔
اگر صبر میں دعا نہ ہو — تو وہ صرف خاموشی رہ جاتی ہے۔
اگر صبر میں رحمت اور معافی نہ ہو — تو وہ انتقام کا دباؤ بن سکتا ہے۔
لہٰذا صبر کوئی جامد کیفیت نہیں، بلکہ ایک “حرکت پذیر روشنی” ہے جو مختلف کرنوں کی شکل میں صبر کے ساتھ ساتھ رونما ہوتی ہے اس کی مثال ہم سیرت سے ہی لیتے ہیں تاکہ یہ ابہام بھی ختم ہو جائے کہ یہ کوئی فلسفہ نہیں بلکہ صبر کی اصل حقیقت ہے

صبر کی سچی تصویر: واقعہ طائف
نبی ﷺ کی زندگی کا سب سے سخت لمحہ —
● مکہ والوں نے جھٹلا دیا تھا۔
●حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابوطالب کا انتقال ہو چکا تھا — یعنی سہارے اور حوصلے کا دائرہ کمزور ہو چکا تھا۔
●آپ ﷺ نے طائف کا سفر اس امید پر کیا کہ شاید وہاں کے لوگ حق کو قبول کریں مگر طائف والوں نے مذاق اڑایا، پتھر مارے، جسم لہو لہان کر دیا اور آپ ﷺ کو شہر سے باہر نکال دیا گیا ۔۔۔۔اور پھر…
نہ بددعا،
نہ شکایت،
نہ غصہ۔
بلکہ آپ ﷺ نے فرمایا:
“اے اللہ! میں اپنی کمزوری، بے سہارگی، اور لوگوں کی بے رخی پر تجھ سے فریاد کرتا ہوں…”
جب فرشتہ حاضر ہوا کہ اگر آپ چاہیں تو یہ قوم تباہ کر دی جائے —
آپ ﷺ نے فرمایا:
“نہیں! مجھے امید ہے کہ ان کی نسلوں میں وہ لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کی عبادت کریں گے۔”
یہ تھا وہ کامل صبر جہاں جو کرنیں پھوٹیں وہ
1. بردباری تھی— بدلہ نہیں، دعا کی۔
2. امید تھی— مایوسی کے مقام پر بھی آنے والے خیر پر یقین۔
3. رحمت تھی — دشمن کو معاف کیا۔
4. حرکت — طائف کے بعد رکے نہیں نہ ہارے، اللہ پر توکل کے ساتھ جدوجہد جاری رکھی
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ صبر جلاتا بھی ہے، مگر روشنی بھی دیتا ہے
پس، یہی وہ مقام ہے جہاں ہم صبر کے اس ابتدائی تاثر — کہ “صبر انسان کو گھلا رہا ہوتا ہے” — کو نئی نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ صبر:
●ہمیں اللہ کے قریب کرتا ہے،
●وقار عطا کرتا ہے،
●خیر کی تلاش سکھاتا ہے،
●اور دلوں میں نرمی، روشنی اور توازن پیدا کرتا ہے۔
●اگر صبر کے ساتھ یقین، دعا، حرکت، امید اور رضا نہ ہو
تو وہ صبر نہیں، صرف برداشت کی خاموشی ہے۔

رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ
“اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے، اور ہمیں حالتِ اسلام میں وفات دے۔”
(الاعراف: 126)

عملی نکات
آئیے آج سے کوشش کریں کہ:
●صبر کو “خاموش برداشت” نہیں بلکہ “نتیجہ خیز” بنائیں ۔
●دکھ کی حالت میں شکوہ کے بجائے اللہ سے بات چیت کو ترجیح دیں۔
●دوسروں کو بھی صبر کی غلط تفہیم سے نکالنے میں نرمی اختیار کریں۔
● اپنے ردعمل پر غور کریں: کیا یہ برداشت ہے یا دباؤ؟
● اللہ کی رضا کے لیے کیے گئے صبر کو اپنی روح کی طاقت بنائیں ۔
اس دعا کے ساتھ
اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَاخْلُفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا
“اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر دے اور اس کے بدلے میں مجھے بہتر عطا فرما۔”
یاد رکھیں، صبر وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں ہمیں اللہ کی طرف رہنمائی دیتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں