
سید ابوالاعلی مودودی رحمہ اللہ
پروفیسر عبد المعید زبیر
قلم اور زبان، گولی اور تلوار سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔ اس کا مشاہدہ کرنا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلم کی حیات طیبہ کا مشاہدہ کر لیجیے۔ مکہ کی تیرہ سالہ زندگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان کی شیرینی اور اعلی اخلاق کی پختگی کی گواہ ہے۔ پھر یہی زبان انقلاب کی بنیاد بنی۔ کفر و اسلام کے درمیان ہونے والی پہلی جنگ کے نتیجے میں گرفتار ہونے والے افراد کی رہائی کو مسلمان بچوں کو علم سکھانے سے مشروط کیا گیا۔ اس سے قلم اور زبان کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ یہی عرب کے بدو پوری دنیا کے حکمران بن گئے اور آج تک ان کا ذکر ہماری زبانوں پر جاری و ساری ہے۔
گویا قلم اور زبان اتنے طاقت ور ہیں کہ مرنے کے بعد بھی انسان کو زندہ رکھتے ہیں۔ دور حاضر میں اس کی ایک مثال سید ابوالاعلی مودودی رحمہ اللہ ہیں۔ ان کا شمار بیسویں صدی کی بااثر مسلم شخصیات میں ہوتا تھا۔ ان کا قلم ایسا مسحور کن تھا کہ قاری ان کی بات سے متفق ہوئے بنا نہیں رہ سکتا تھا۔ دلائل میں عقلی باتوں کا سہارا زیادہ لیتے تھے، جس سے ان کے مبتدی و خالی الذہن قارئین کو بات سمجھنے میں آسانی ہوتی تھی۔ ان کی انہی علمی، عملی و سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ہر سال 25 ستمبر کو ان کے یوم وفات کے موقع پر ملک بھر اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ سیمینار کروائے جاتے ہیں تاکہ نئی نسل تک ان کا پیغام پہنچایا جا سکے۔
مودودی صاحب رحمہ اللہ کو دین کا جتنا بھی فہم حاصل تھا، وہ خاندانی علمی وراثت اور اپنے ذوق مطالعہ کی بنیاد پر تھا۔ ان کے آبا و اجداد میں خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمہ اللہ بہت بڑے بزرگ گزرے ہیں، جو خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے بھی شیخ الشیوخ تھے۔ انہوں نے اپنے خاندان پر بہت گہرے اثرات چھوڑے تھے۔ دینی گھرانہ ہونے کی وجہ سے مودودی صاحب رحمہ اللہ اسی مبارک ماحول میں پلے بڑھے۔ والد صاحب نے بھی تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی۔ حصول علم کے لیے کچھ عرصہ علماء کی مجلس میں ضرور بیٹھے ہیں، مگر کسی مستند ادارے سے فاضل نہیں تھے۔
لڑکپن سے ہی لکھنے پڑھنے کا مزاج تھا۔ دارالعلوم میں داخلہ لیا۔ مگر چند ماہ ہی یہ سلسلہ چل سکا کہ فالج کی وجہ سے والد صاحب کی وفات ہوگئی۔ اب ساری زمہ داری جب ان کے کاندھے پر پڑی تو فکر معاش ستانے لگی۔ لہذا تعلیم چھوڑ کر صحافت کو بطور پیشہ اختیار کر لیا۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں لکھنے کی زبردست قابلیت عنایت فرمائی تھی۔ اسی قابلیت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور مختلف اخبارات میں بطور صحافی اور پھر ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا۔ جن میں اخبار “مدینہ” بجنور(یوپی) “تاج” جبل پور اور جمعیت علماء ہند کا روزنامہ “الجمعیۃ” دہلی خصوصی طور پر شامل ہیں۔ مودودی صاحب رحمہ اللہ مولانا محمد علی جوہر رحمہ اللہ کے خیالات سے زیادہ ہم آہنگ تھے۔ اسی ہم آہنگی اور تعلق کی بنیاد پر انہوں نے سید مودودی رحمہ اللہ کو اپنے اخبار “ہمدرد” میں کام کرنے کی دعوت دی۔ مگر آپ اس وقت “الجمعیۃ” میں کام کر رہے تھے، ان سے پرانے تعلقات بھی تھے۔ جس کی وجہ سے آپ نے مولانا محمد علی جوہر سے معذرت کی۔ اگرچہ کانگریس سے سیاسی اتحاد پر اختلافات کی وجہ سے انہیں پھر کچھ عرصہ بعد روزنامہ “الجمعیۃ” کو بھی چھوڑنا پڑا۔
سید مودودی رحمہ اللہ کے قلم میں ایسی روانی تھی کہ سب کچھ ساتھ بہا لے جاتی تھی۔ ان کی تصانیف نے اسلامی تاریخ پر اپنے گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ بہت سے لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بھی بنی ہیں۔ خصوصاً برصغیر کے مسلمانوں میں انگریز کی نفرت پیدا کی۔ انگریز سے نفرت انہیں ورثے میں ملی تھی۔ اسی سلسلے میں ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جو بھی تحریکیں اٹھیں، ان میں سید مودودی رحمہ اللہ کا کردار بہت نمایاں رہا۔ مثلا تحریک خلافت، تحریک ستیہ گرہ اور تحریک ترک موالات وغیرہ۔ برصغیر کے مسلمانوں کے علاؤہ ترک مسلمانوں کی حمایت میں بھی انہوں نے انگریزوں کے خلاف بڑے پر جوش اور ولولہ انگیز مضامین لکھے۔
مسلمانوں میں جو بھی اخلاقی برائیاں دیکھتے فوراً انہیں واضح کرتے اور راہنمائی فرماتے۔ مسلمانوں کی حالت زار اور ان کی بے کسی پر بہت کڑھتے تھے۔ اکثر اسی فکر میں رہتے کہ مسلمان اپنے آپ کو پہنچان لیں ۔ اسلام کے سچے پیروکار بنیں، تاکہ صحیح معنوں میں دنیا کے سامنے اسلام کا نمونہ پیش کر سکیں۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ہم میں جتنی بھی کمزوریاں ہیں ، یہ صرف اس لیے ہیں کہ ہم میں سے اسلامی روح نکل گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمان لیڈروں کی سیاسی غلطیوں پر بھی کڑی نظر رکھتے۔ ہمیشہ مسلمانوں کی اصلاح و ترقی پر بہت کام کیا۔ انہیں اس حوالے سے مفید اور قابل عمل مشورے بھی دیتے۔
صحافت کے زمانے میں سید مودودی رحمہ کا اوڑھنا بچھونا چونکہ قلم کاغذ ہی تھا، تو اسی دوران اپنی ذاتی کوششوں سے انگریزی بھی سیکھ لی اور جدید علوم پڑھنے کے ساتھ ساتھ مختلف اساتذہ سے دینی علوم میں عربی ادب، تفسیر، حدیث، فقہ، منطق اور فلسفے وغیرہ کی کتابیں بھی پڑھ لیں۔ (اگرچہ ان کے اساتذہ میں کسی قابل قدر شخصیت کا تذکرہ نہیں ملتا)۔ اس طرح ان کے پاس بہت سی معلومات کا خزانہ جمع ہوگیا اور وہ قدیم اور جدید علوم میں ماہر ہوگئے۔
وسیع مطالعہ اور قلم پر قدرت کا یہ عالم تھا کہ اپنی زندگی کی پہلی کتاب چوبیس سال کی عمر میں لکھ ڈالی۔ یہ کتاب ان لوگوں کو جواب تھا، جو کہتے تھے کہ اسلام ایک تلوار اور تشدد والا مذہب ہے۔ اسی کتاب کے بارے میں علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ نے فرمایا تھا : “اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانون صلح و جنگ پر یہ ایک بہترین تصنیف ہے اور میں ہر ذی علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے”۔ اسی طرح پردہ کی اہمیت اور اس کی ضرورت پر “پردہ” کے نام سے ایک شہرہ آفاق کتاب لکھی۔
ان کے قلم سے وجود میں آنے والی کتب تفہیم القرآن، ترجمان القرآن اور خلافت و ملوکیت وغیرہ نے انہیں جمہور علماء سے الگ کھڑا کر دیا۔ اس کی بنیادی وجہ بغیر کسی معتبر استاد کے اپنے ذوق پر حصول علم تھا۔ قرآن و حدیث کے مقابلے میں اپنی فہم اور عقل سے فیصلہ فرماتے تھے۔ نتیجۃً بے لگام قلم ، آزاد مطالعہ اور شوخی تحریر نے ان کے قلم سے ایسی ایسی باتیں لکھوا دیں کہ بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کی ذات محفوظ رہی اور نہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی۔ جیسے انبیاء کرام علیہم السلام کے بارے میں ان کی رائے یہ تھی کہ ان سے بھی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خصوصا خلفاء راشدین کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ معیار حق نہیں ، ان کے فیصلے حجت نہیں وغیرہ وغیرہ۔ کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بہت بڑی باتیں تھیں کیوں کہ نبی آئیڈیل ہوتے ہیں، اگر انہی سے غلطیاں سرزد ہوں تو امت کے لیے کیا مثال بنیں گے۔ اسی طرح اگر صحابہ کرام معیار حق نہیں تو اور کون معیار ہو سکتا ہے؟ اس ایک قول نے پورے قرآن اور حدیث کے مجموعے کو مشکوک کر دیا کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات انہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واسطے سے ہم تک پہنچیں۔
علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ کی دعوت پر 1938ء میں حیدرآباد دکن چھوڑ کر پاکستان تشریف لائے۔ اسی دوران انہوں نے اپنی تحریروں میں اسلام کی پابند ایک جماعت بنانے کی تجویز پیش کی۔ یوں ان کے محبین میں سے 75 افراد لاہور جمع ہوئے اور 1941ء میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔ سید مودودی رحمہ اللہ کو پہلا سربراہ مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے مشن کو تیز کیا۔ اسلامی نفاذ کے مطالبے پر جیل بھی ہوئی۔ قادیانی مسئلہ ایک کتابچہ لکھنے کی وجہ سے سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا مگر بیرونی دباؤ اور مداخلت کے سبب یہ فیصلہ قید کی سزا میں بدلا اور کچھ ہی عرصہ بعد عدالت کے حکم پر رہا ہو گئے۔ منکرین حدیث کے خلاف بھی مشن سنبھالا اور تحریروں سے ان کا رد فرمایا۔ اپنی اسلام پسند پالیسیوں کی وجہ سے بہت زیر عتاب رہے۔