تحریر قلم سے عشق/تحریر/میمونہ شفقتمیں ایک نادان سی بندی آج اس عشق کا ذکر کرنے لگی ہوں، جو دونوں جہانوں کے سردار، ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ہے۔ وہ ہستی جن کے آنے سے کائنات میں روشنی ہی روشنی پھیل گئی۔ جن کا نام لیا جائے تو آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں، اور جن کا ذکر کانوں میں ایک عجیب سا سرور بھر دیتا ہے۔ آپ ﷺ کو نبیوں میں سب سے بالا تر مقام دیا گیا۔ یہ وہ عشق ہے جو عام انسانوں کی محبت کی طرح وقتی نہیں، بلکہ وہ عشق ہے جس کا ذکر خود قرآنِ کریم میں بھی ہوا اور جسے اللہ ربّ العالمین نے بھی قبول کیا۔
یہ عشق وہ ہے جس میں ہر آزمائش کو صبر سے جھیلا گیا، دکھ اور درد کو مسکرا کر قبول کیا گیا، مگر اپنے محبوب کی نافرمانی کبھی نہ کی گئی۔ سوچنے کی بات ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے لیے کچھ نہ مانگا، اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اپنے رب کو مقدم رکھا، اپنی امت کے لیے دعائیں کرتے رہے، مگر ہم… ہم امت ہو کر بھی ان کے نقشِ قدم پر چل نہ سکے۔ آپ ﷺ کے صبر اور شکر کی وہ داستان، وہ عظیم قربانیاں یاد آتی ہیں تو دل ٹوٹ کر رو پڑتا ہے کہ ہم کیسے بھول گئے اپنے آقا کا سچا عشق۔
لیکن سوال یہ ہے… آج ہم کس دنیا اور کس محبت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ ہم نے اپنے نبی ﷺ سے کیا سیکھا؟ کیا ہم نے ان کی سیرت کو اپنایا؟ افسوس کہ اس بے وفا دنیا کی خاطر ہم نے اپنے رب کے سچے عشق کو چھوڑ دیا ہے۔ آہ! ہم غافل ہو گئے، دنیا کے دھوکے نے ہمیں اندھا کر دیا۔ کاش ہم سمجھ سکیں کہ اصل سکون صرف اپنے رب اور اپنے آقا ﷺ کے عشق میں ہے۔ اگر ہم واقعی ان سے محبت کرتے ہیں تو اپنی زندگیوں میں اس کا ثبوت بھی دینا ہوگا۔ ورنہ یہ آنکھوں کے آنسو اور زبان کے دعوے کچھ بھی نہیں آج وقت ہے سیکھے سمجھے اور جانیے کل کہیں سانس نہ رک جائے
کہیں وقت تھم نہ جاۓ
اور پھر صرف افسوس ۔کاش رہ جاۓ
اسلام وعلیکم و رحمۃ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم