
عنوان: احساس مرتبت اور احساس کمتری
تحریر : روبینہ کاکڑ
ہماری زندگی میں بلب کو اگر اس کی اہمیت کا پتہ چلے، تو کیوں نہ وہ خود پر فخر کرے؟ بجلی اگر احساس رکھتی؛ تو محسوس کرتی، کہ وہ کتنی ضروری ہے۔ کیسے غرور نہ کرتی اپنی خاصیت پر؟ ہر بے جان اگر ذی روح ہوتا اسے اپنی خصائص کا اندازہ ہوتا، اور انسان کی طرح شیخیاں بگھارتا۔ بے جان اشیاء کی خصوصیات حیاتیات سے ہٹ کر بیان کروں تو، وہ شے جسے عمر کی کسی بھی حصے میں اپنے وجود کی اہمیت کا علم نہ ہو، یا خصوصیات کا اظہار نہ کر سکتے ہوں، اِنھوں نے انسانوں کو ان کے استعمال میں مطلق العنانی بخشی ہے۔ نیز یہ صفت صرف بے جانوں تک محدود نہیں، بلکہ ان تمام جانداروں میں ہے جن کی زندگی مکمل جبلت پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں انسانوں سے ہٹ کر تمام جانور آجاتے ہیں۔
انقلاب کا ضمیمہ عقل ہے۔ عقل خود شناسائی کو ممکن بناتی ہے۔ ایک بوتل کو ہم کچرے، گندے پانی سے بھریں یا خالص و شفاف پانی سے، نہ تو اسے فرق پڑتا ہے، نہ زندگی کے کسی خاص حصّے میں جا کر پڑے گا۔
نہ کبھی گدھا اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے گا، نہ سڑکوں پر آوارہ کتے حکومت سے بنیادی حقوق کی ضمانت مانگیں گے۔ مگر ان بوتلوں کا کیا جو عمر کے خاص حد تک پہنچ کر کچھ مخصوص حالات کے تحت حرکت میں آنے، جواب دہی چاہیں گے، جو خود کو وہ پائیں گے جو انہیں ہونا نہیں چاہیے تھا۔ انسان جب ہوش سنبھالے گا، بوتل میں پانی والا قصہ تمام ہو چکا ہو گا۔ زندگی ایک الگ موڑ پر کھڑی ہو گی۔
خوش قسمتی سے کبھی معاشرہ آئینہ بن کر بوتل کی صورت منعکس کر کے اسے دکھا دیتا ہے۔ اکثر اوقات تو معاشرہ آئینے پر پردہ ڈال کر ڈھانپ دیتا ہے، جس کے سبب ہم کبھی اپنی شخصیت سے وہ کیچڑ نکالنے سے ہی قاصر رہتے ہیں۔
شخصیت کی بناوٹ میں انسان مکمل ذمہ دار نہیں۔ پچاس فیصد حصہ تو ہوش آنے سے پہلے ہی تعمیری مراحل سے گزر چکا ہوتا ہے۔ ہماری عمر کا ایک حصہ لاشعوری پر مشتمل ہوتا ہے۔ شعور کے آنے تک لاشعوری کئی نقوش ثبت کر چکی ہوتی ہے۔ ایڈلر (ماہرِ نفسیات) جس نے شخصیت کی تعمیر میں کردار ادا کرنے والی ایک حالت کا تصور پیش کیا۔ ایڈلر نے شخصیت سازی میں “نمبرِ ولادت” کو بھی اہمیت دی۔ یہ بات بظاہر اتنی پر اثر دکھائی نہیں دے رہی، مگر کئی شخصیات اندھیر نگری میں اپنے ساتھ لڑنے پر مجبور اسی کی بدولت ہی ہے۔
ایڈلر نے پہلے بچے، دوسرے بچے، اکلوتے بچے اور مسترد بچے کے تصورات پیش کیے۔ جن کی شخصیت کی نشوونما میں نمبرِ پیدائش اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پہلا بچہ:
پہلا بچہ جس کے پیدا ہونے کا بے صبری سے انتظار کیا جاتا ہے، اور پیدا ہوتے ہی اسے ہر طرف سے محبت، شفقت اور توجہ ملتی ہے۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی خواہش پوری کی جاتی ہے۔ ہر ضد پوری ہونے سے شخصیت بگڑ جاتی ہے۔ وہ بچہ ایک مطلق العنان حکمران ہوتا ہے۔ ہر بات آسانی سے منوا لیتا ہے، اور وہ بچہ باہر سے بھی ہر کسی سے ایسی توجہ اور محبت کی توقع رکھنے لگتا ہے۔
دوسرا بچہ:
دوسرا بچہ چونکہ بڑے سے چھوٹا ہوتا ہے۔ اس کو والدہ کی مکمل نگرانی، خیال اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں سے پہلے بچے سے وہ توجہ اور محبت ختم نہیں، مگر کسی حد تک کم ضرور ہو جاتی ہے۔ جس سے بچے کی ضد پوری نہیں ہوتی، ویسے جیسے پہلے پوری کی جاتی رہی تھی۔ وہ بچہ جس کو باہر سے محبت کی توقع تھی، یہاں سے ہی ان توقعات پر پانی پھیرنے لگتا ہے۔
یہاں سے مقابلہ بازی کا دردناک سفر شروع ہوتا ہے۔ یہاں سے حسد کے خونخوار بیج بونے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس سے دوسرے بچے کی نشوونما پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا مگر تباہ کر دینے والی جنگ کا آغاز ہو جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دے کر تسخیرِ کائنات، دریافتوں اور ایجادات کا بڑا فریضہ سونپا۔ مگر خود انسان اپنے آپ سے لڑنے میں مصروف ہو، تو اس کے لیے باہر کی دنیا پر غور و فکر کرنا وقت کا ضیاع لگتا ہے۔ توجہ اپنے آپ پر ہوگی۔ ہر بات میں خود کا تقابل چھوٹے بھائی یا باہر کے دوسروں سے کرے گا، جو احساسِ کمتری کی گھٹا ٹوپ اندھیروں میں لے کر جاتا ہے۔ وہاں سے نکلنے کے لیے ایک نئی شخصیت تشکیل دینے کی قوت درکار ہوتی ہے۔ پہلے تو بڑا بچہ دوسرے بچے کی طرح حرکتیں کرتا ہے، بات بات پر روتا ہے۔ بعد میں تسلی بخش جواب نہ ملنے پر احتجاج ہی ختم کر دیتا ہے۔ اب وہ خود کو ہر جگہ ایسے مقابلے والی حالت میں ہی رکھے گا۔ یہ مقابلہ معمولی سی خطرناک حد تک چلا جاتا ہے۔ ہر انسان اپنے آپ کو ایک عقل کل اور اچھا تصور کرتا ہے۔ یہاں مقابلہ اسے تذبذب کا شکار کرتا ہے۔
مسترد بچہ:
مسترد بچہ پہلے بچے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ مسترد وہ بچہ ہے، جس کی خواہشات گھر والے نظر انداز کر دیں۔ خواہشات مادی اور غیر مادی دونوں ہو سکتی ہیں۔ ایسا بچہ معاشرے اور والدین کے لیے دشمنی اور نفرت کے جذبات اپنے اندر پال لیتا ہے۔ استرداد کی بھی وجہ کوئی بھی ہو سکتی ہے۔ اس وقت چونکہ ہمارے پاس حاصل شدہ منصب میں کچھ بھی نہیں ہوتا، کیونکہ ہم حالتِ لاشعوری میں ہوتے ہیں۔ تو پاس جو بھی ہوتا ہے، وہ حیاتیاتی ہوتا ہے، جس میں شکل و صورت، جنس، دیگر جسمانی اعضاء کی ترتیب شامل ہوتی ہے۔
معاشرتی وجوہات میں ناجائز اولاد اہم ہے۔ یہاں استرداد کی وجوہات چونکہ قدرتی ہیں، تو انہیں بدلنے کی بھی تقریباً اس وقت صلاحیت نہیں ہوتی، کیونکہ اس حالت میں ہم خود دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں۔ ایک بچہ اگر ناجائز پیدا ہوا ہے، تو وہ اپنے جنم کو کبھی نہیں بدل سکتا۔ اور نہ اس کے اختیار میں ہے۔ اور نہ کوئی اپنی شکل و صورت یا جسمانی خدوخال بدل سکتا ہے۔ مگر اسی بنیاد پر اسے استرداد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہاں پری زاد نامی ناول کا کردار پری زاد کا ذکر بے جا نہ ہوگا۔ جسے شکل و صورت کی بنا پر ہر جگہ طنز کا نشانہ بنایا گیا۔ یا مثلاً خواجہ سرا کو گھروں سے باہر نکالنا یا معاشرتی معیار پر مسترد کرنا یا کمتر سمجھنا ۔ یہ منصب انھیں ماں کی کوکھ سے ملا ہے۔ جنھیں یہ بدل نہیں سکتے۔
بعض اوقات وہ مسترد بچہ یا مسترد شخص اپنے ساتھ ہونے والے منفی رویوں اور منفی جذبات و احساسات کی تسکین کے لیے ان چیزوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے، جن کی وجہ سے وہ احساس کمتری کے دائرے سے نکل سکے۔ جیسے پڑھائی پر توجہ دینا۔ سکلز سیکھنا وغیرہ۔ کیوں کہ ان اعمال سے ان کے اندر وہ پوشیدہ طاقت ابھر آتی ہے جو اسکی حالت زار اور زبوں حالی نے اسے دبائے رکھا تھا۔ یہ طاقت اسے معاشرے میں جینے اور بڑھنے کا حوصلہ بخشتا ہے۔ سکون قلب دیتا ہے اور وہ بھی باقی لوگوں کی طرح رہنے کا حوصلہ پاتا ہے۔ بعض اوقات استردار کے نتائج اس کے برعکس نکل آتے ہیں۔ جس میں وہ شخصیت مثبت پہلو سے منفی پہلو کی طرف چل پڑتی ہے۔ انسانوں کو اذیت میں مبتلا کر کے سکون محسوس کرتا ہے ۔ کرے تو کیا کریے؟ کسے کے کام میں ٹانگ اڑانا، کسی کو خرابے میں دیکھ کر خوشی محسوس کرنا، کسے بنائے ہوئے کام کو بگاڑ دینا، نیز گردنیں اڑانا، قتل و غارت کرنا چوری ڈاکہ ڈالنا وہ سکون اور کامیابی کے ذرائع سمجھتا ہے۔ کیوں کہ وہ اپنے استرداد کی کمی دوسروں کے استرداد سے پوری کرتا ہے یا پھر اول الذکر سانچے میں خود کو ڈال کر نشونما پاتا ہے۔
ادب معاشرے کا آئینہ ہے۔ ہم اگر ایک نظر اپنے مشرقی ڈراموں پر ڈالیں، تو ان میں کہانی مقابلے اور حسد سے شروع ہوتی ہے اور انجام انسانیت یا جذبات اور خواہشات کی ہلاکت پر ہوتا ہے۔ خوبصورتی، نیک خصلت، نیز مختلف چیزوں کو بنیاد بنا کر تفریق پیدا ہو جاتی ہے۔ کینہ پروری جنم لیتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں جان لینی والی دشمنی پیدا ہو جاتی ہے۔
ایڈلر کے اس تصور ءا نظریے کا اطلاق ان جگہوں پر کر سکتے ہیں۔ خاص کر جہاں اک دم سے بڑے بچے سے توجہ ہٹا لی جائے، اور اس سے پیدا ہونے قابلے کو خوش آمدید کہا جائے۔
اسی طرح ہم گھر میں پہلی بہو سے توجہ ہٹا کر نئی آنے والی بہو کو ساری توجہ اور اختیار دے کر پہلی والی کو مقابلے کے میدان میں لے آتے ہیں۔ جس کا نتیجہ آخر کار گھریلو ناچاکی کی صورت میں نکل آتا ہے اور علیحدگی کج نوبت آ جاتی ہے۔
ایک استاد جو سب کا پسندیدہ ہوتا ہے۔ سکول کے اہم فیصلے کرنے میں مدد کرتا ہے۔ دوسرے اعلیٰ تعلیم یافتہ استاد کے آنے سے توجہ ایک دم اسی پر مرکوز ہو جاتی ہے، جو تعلیمی ادارے میں گروہ بندی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
مشہور قصہ ہے۔ کہ ایک شخص نے ایک گدھا اور ایک کتا پال رکھا تھا۔
کتا عجیب عجیب حرکتیں کرتا ، اور مالک دیکھ کر خوش ہوتا۔ گدھے نے بھی وہی التفات اور توجہ حاصل کرنے کے لیے کتے کی طرح اچھلنا شروع کیا، تو محبت کے بجائے مالک نے اسے مارنا شروع کر دیا۔ جو بھی ہو، توجہ کی تفریق شخص کو تقابل کے میدان میں کھڑا کر دیتا ہے۔
بچے اس قوم کے معمار ہیں۔ استاد معمار کی تربیت کا ذمہ دار، عورت خاندان کی کششِ ثقل ہے۔ جو خاندان کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔ بچوں کی تربیت، گھر کو سنبھالنا، ہر کسی کا معاشرے میں خاص کردار ہوتا ہے۔
اور شخصیت ہی سب کچھ ہے، جو شخص میں کچھ کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ اگر ہماری شخصیت کی نشوونما بہتر طریقے سے نہیں ہوگی، تو خاندان مفید شہریوں کے بجائے زہریلے اور ذہنی بیمار اشخاص معاشرے کو دے گا۔