0

میڈیا اور سچ بولنے کی قیمت / تحریر / سید عدیل گیلانی

میڈیا اور سچ بولنے کی قیمت
تحریر: سید عدیل گیلانی

پاکستان میں سچ بولنا اب ایک خطرناک مشن بن چکا ہے۔ لیکن ظالم کے سامنے کلمہ حق کہہ دینا بھی جھاد ہے اسلام بھی ہمیں حکم دیتا ہے جب بھی کہو سچ کہو میڈیا جسے عوام کی آواز ہونا تھا، آج خود دباؤ، دھمکی اور انتقام کی زد میں ہے۔عوامی آواز کو دبایا جارہا ہے لیکن سچ بولنے کی قیمت صحافیوں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے پیکا جیسے قوانین، جھوٹے مقدمات، اور قانونی موشگافیوں کے ذریعے سچ کو دبایا جا رہا ہے۔ کوئی تو اپنے یوٹیوب چینل چلا رہے کچھ جیل کی کوٹھڑیوں میں ہیں کچھ کو سچ بولنے کی سزا ملک بدر کی صورت ملی کچھ کو اپنے ٹی وی چینل اور اخبارات سے مرحوم کردیا گیا سچ بولنے کی سزا میڈیا انڈسٹری زوال کا شکار ہوتی جارہی ہے سرکاری اشتہارات بند کردئیے گئیے پیمرا کی جانب سے لائیسنس منسوخ کردئیے جارہے ہیں کیبل اپریٹر کے زریعے بلیک میل کیا جارہا ہے نشریات بند کی جارہی ہیں جو صحافی منشیات فروشی، قبضہ مافیا، کرپشن، ریاستی ناانصافی اور دیگر جرائم کے خلاف لکھتے ہیں، ان پر تشدد، دھمکیاں اور انتقامی کارروائیاں عام ہو چکی ہیں۔ پولیس گردی ناجائز مقدمات کا اندراج کئی صحافیوں کو نوکریوں سے نکالا گیا، کئی زخمی ہوئے، اور کچھ ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیے گئے۔ المیہ یہ ہے کہ نام نہاد صحافی تنظیمیں اور ادارے، جن کا فرض تھا کہ سچ کے محافظوں کے ساتھ کھڑے ہوں، اکثر مفاد، سیاست یا ذاتی فائدے کے زیرِ اثر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ بڑے شہروں کے اسٹوڈیوز میں بیٹھے اینکرز کی چمک کے پیچھے وہ مقامی رپورٹر بھول جاتے ہیں جو بغیر تنخواہ، بغیر تحفظ، اور بغیر سہولت کے فیلڈ میں اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سچ کی تلاش میں نکلتا ہے۔ وہی رپورٹر جو کسی پولیس مقابلے، کسی مافیا کے اڈے، یا کسی بے بس مظلوم کے دروازے تک پہنچتا ہے تاکہ قوم کو حقیقت بتا سکے۔ ان کی نہ کوئی سیلیری ہوتی ہے، نہ کوئی انشورنس، مگر ان کا ضمیر انہیں خاموش نہیں رہنے دیتا۔ سچ کے لیے وہ خطرہ مول لیتے ہیں جسے طاقتور خرید نہیں سکتے۔ جب نام نہاد تنظیمیں مفاد کے نیٹ ورک میں الجھی ہوں، تو یہی خاموش، غیر معروف رپورٹر پاکستان کی اصل صحافت کے چراغ جلائے رکھتے ہیں۔ اگر ہم نے ان بے لوث آوازوں کو سہارا نہ دیا تو آنے والا وقت ایسا ہو گا جہاں میڈیا تو ہوگا مگر سچ نہیں — آوازیں تو ہوں گی مگر ضمیر نہیں۔اس کالم کا مقصد صرف تنقید نہیں، بلکہ ایک سادہ اپیل ہے کہ صحافتی تنظیمیں، ادارے اور ایڈیٹرز اپنا فرض یاد رکھیں؛ مقامی رپورٹرز کے تحفظ، مالی امداد اور قانونی معاونت کے مستقل میکانزم ترتیب دیے جائیں۔ ان بے نام چہرہ افروزوں کی حوصلہ افزائی اور حفاظتی بندوبست کے بغیر آزاد صحافت کا تصور محض الفاظ تک محدود رہ جائے گا۔سچ لکھنے والا ہمیشہ اکیلا ہوتا ہے، مگر اس کی سچائی کا وزن پورے نظام سے زیادہ ہوتا ہے۔ آج اگر ایک رپورٹر سچ بولنے کی سزا بھگت رہا ہے تو کل کوئی دوسرا شہری بھی بولنے سے ڈرے گا۔ صحافت صرف پیشہ نہیں، ایک ذمہ داری ہے — اور جو اسے نبھاتا ہے، وہ تنخواہ نہیں بلکہ ضمیر کی قیمت پر جیتا ہے۔ ریاستوں کی بقا قلم کی حرمت سے ہوتی ہے، اور جب قلم ٹوٹنے لگے تو قومیں اندھیروں میں گم ہو جاتی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم قلم تھامنے والوں کی عزت کریں، ان کی حفاظت کریں، کیونکہ یہی لوگ سچ کے سپاہی ہیں — اور جب سچ بولنے والے خاموش ہو جائیں، تو ظلم بولنے لگتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں