0

تلاش/تحریر/ڈاکٹر عائشہ اسد

عنوان: تلاش
ڈاکٹر عائشہ اسد

اس دنیا میں جہاں انعامات زیادہ تر انفرادی کامیابی، شہرت، اور خودنمائی پر مبنی ہیں، ایثار اور بے غرضی کی راہ بظاہر غیر فطری محسوس ہوتی ہے۔ مگر درحقیقت دوسروں کے لیے جینا قربانی نہیں، بلکہ ایک روحانی سفر ہے — ایسا سفر جو انسان کو حقیقی تسکین، گہرے ربط، اور اطمینانِ دل تک لے جاتا ہے۔ خودغرض انسان اپنی خواہشات اور انا کا اسیر بن جاتا ہے۔ وہ اپنے مفاد کے لیے دوسروں کے مواقع اور خوشیاں چھیننے کی کوشش کرتا ہے، جب کہ بے غرض انسان دنیا کے سکون و بہبود میں حصہ ڈال کر آزادی، مقصد اور مسرت پاتا ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
ترجمہ : “وہ دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں، چاہے خود ضرورت مند ہوں۔” — سورہ الحشر: ۹
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچی خوشی اپنی ذات کو محدود رکھنے میں نہیں، بلکہ اسے دوسروں کے لیے وقف کرنے میں ہے۔

خودغرض زندگی کے نقصانات بظاہر معمولی مگر اندر سے کھوکھلے کر دینے والے ہوتے ہیں۔ ذاتی مفاد کے لیے دوسروں کے حقوق یا خوشیوں کو پامال کرنا آخرکار بدنامی، بگڑے ہوئے رشتوں اور تنہائی کے اندھیروں میں بدل جاتا ہے۔ جب انسان کا ہر عمل صرف ذاتی فائدے کے گرد گھومنے لگے تو احساسِ مروّت مرجاتا ہے اور ہمدردی دم توڑ دیتی ہے۔
حضرت علیؓ کا فرمان ہے:
“انسان کی قدر اُس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک وہ دوسروں کے لیے فائدہ مند رہتا ہے۔”
یہ قول ہمیں بتاتا ہے کہ زندگی کا حسن خود کے لیے جینے میں نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے مفید بننے میں ہے۔

ایثار پر مبنی زندگی شعور کو وسعت دیتی اور کردار کو جِلا بخشتی ہے۔ جب ہم دوسروں کی ضرورتوں کو ترجیح دیتے ہیں تو صبر، انکساری اور ہمدردی جیسے اوصاف دل میں پروان چڑھتے ہیں۔
حضرت بابا فریدؒ نے فرمایا:
“جو اپنے نفس کو مار لیتا ہے، وہی خدا کو پا لیتا ہے۔”
یہ قول خود پر قابو پانے، انا کو دبانے اور انسانیت کو بلند کرنے کی دعوت ہے۔
یہی رویہ معاشرے میں محبت اور خیر کا وہ دائرہ بناتا ہے جس کی خوشبو ہر سمت پھیلتی ہے۔ جیسا کہ مولانا رومؒ فرماتے ہیں:
“محبت وہ خوشبو ہے جو دوسروں کو مہکانے سے خود بھی مہک جاتی ہے۔”
دوسروں کی خوشی میں شریک ہونا دراصل اپنی روح کو روشن کرنا ہے۔

ماہرینِ نفسیات کے مطابق، دوسروں کی مدد کرنا ذہنی سکون، خوشی اور طمانیت کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ بے غرض رویے دباؤ کو کم کرتے اور دل کو ہلکا کر دیتے ہیں۔ مادر ٹریسا کے الفاظ میں:
“ہم سب بڑے بڑے کام نہیں کر سکتے، مگر چھوٹے کام بڑی محبت سے کر سکتے ہیں۔”
یہ الفاظ سادہ ہیں، مگر ان میں انسانیت کا عمیق پیغام پوشیدہ ہے — کہ نیکی کے لیے پیمانے نہیں، نیت کی سچائی ضروری ہے۔

ایثار کی ابتدا کسی عظیم کارنامے سے نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے اور شعوری اعمال سے ہوتی ہے۔ کسی دوست کی بات پوری توجہ سے سن لینا، اجنبی کے لیے دروازہ کھول دینا، یا اپنے وقت کا کچھ حصہ خدمتِ خلق کے لیے وقف کر دینا — یہ سب معمولی مگر بامعنی اقدامات ہیں جو انسان کو دوسروں کے احساس میں جینے کی تربیت دیتے ہیں۔
خلیل جبران کے الفاظ میں:
“جب تم دوسروں کو دیتے ہو تو دراصل خود کو دیتے ہو، کیونکہ تم اور وہ ایک ہی روح کے عکاس ہو۔”
یہ احساس انسان کو وحدت، ربط اور روحانی بھائی چارے کی طرف لے جاتا ہے۔

تاہم، بے خودی کا مطلب خود کو بھلانا نہیں۔ متوازن زندگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنی ضروریات کا بھی خیال رکھے۔ اپنی حدود طے کرنا، آرام کرنا، اور اپنی دلچسپیوں میں وقت گزارنا — یہ سب خود غرضی نہیں بلکہ خود احترام ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب عقل اور دل دونوں کہتے ہیں:
یعنی درست کام کرو، اور اسے درست طریقے سے کرو۔ یہی توازن انسان کو باوقار، پُرسکون اور مضبوط بناتا ہے۔

بالآخر، بے غرض زندگی ہی دراصل با مقصد زندگی ہے۔ جیسا کہ علامہ اقبالؒ نے کہا:
“فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں — موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں”
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان اپنی اصل تب پاتا ہے جب وہ کسی بڑے مقصد، کسی اجتماعی خیر سے جڑ جاتا ہے۔

آخر میں حکیم نصیر کے الفاظ دل کو چھو جاتے ہیں:
“کسی کے کام آ جانا ہی زندگی ہے نصیر، ورنہ جینا تو سبھی کو آتا ہے۔”
یوں ایثار، محبت، اور خدمت کے رنگوں سے آراستہ زندگی نہ صرف ہمیں حقیقی خوشی عطا کرتی ہے بلکہ دنیا کو بھی روشنی سے بھر دیتی ہے-
ایک ایسی دنیا جہاں ہر دل دوسرے کے درد کو محسوس کرے،
اور ہر عمل سے خیر و محبت کی خوشبو پھیلے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں