سیلاب/ایک مسلسل امتحان اور ہماری ذمہ داریاں/تحریر/آپا منزہ جاوید اسلام آباد
ہر سال برسات کے موسم کے ساتھ ہی پاکستان کے وسیع و عریض علاقے سیلاب کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ سینکڑوں دیہات ڈوب جاتے ہیں، فصلیں برباد ہو جاتی ہیں، مال مویشی ہلاک ہو جاتے ہیں اور ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے بے یارومددگار رہ جاتے ہیں۔ یہ محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ ہماری اجتماعی کوتاہیوں، ناقص منصوبہ بندی اور ماحول سے بے احتیاطی کا نتیجہ بھی ہے۔
دریاؤں کے کنارے غیر قانونی تعمیرات، برساتی نالوں کی بندش، نکاسیٔ آب کے نظام کی زبوں حالی اور کوڑا کرکٹ کی نالیوں میں بے دریغ پھینکائی وہ عوامل ہیں جو بارش کے پانی کو قابو سے باہر کر دیتے ہیں۔ ایک طرف قدرتی شدت ہے تو دوسری طرف ہماری غفلت، اور یہ دونوں مل کر تباہی کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔
سیلاب کے نقصانات ناقابلِ تلافی ہیں۔ زمینیں بنجر، گھر برباد، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، بیماریاں پھیلتی ہیں اور ایک عام آدمی کے لیے زندگی دوبھر ہو جاتی ہے۔ ان حالات میں ہمیں صرف حکومت کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اپنی سطح پر بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔
سب سے پہلے کسانوں کو سیلابی علاقوں میں اپنی اور اپنے مال مویشیوں کی حفاظت کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ چھوٹی کشتیاں رکھنا کسی عیش و عشرت کا سامان نہیں بلکہ ہنگامی ضرورت ہے۔ بروقت کشتی کی دستیابی کئی قیمتی جانیں اور مال مویشی بچا سکتی ہے۔
دوسری جانب نئی نسل کی تربیت بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جن اسکولوں میں والدین ماہانہ بھاری فیس ادا کرتے ہیں، وہاں صرف کتابی تعلیم پر اکتفا نہیں ہونا چاہیے۔ تیراکی، کشتی رانی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی عملی تربیت لازمی نصاب کا حصہ ہونی چاہیے۔ ہر مہنگے اسکول میں سوئمنگ پول کا ہونا کوئی اضافی سہولت نہیں بلکہ طلبہ کی زندگی بچانے کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اسی طرح قومی سطح پر تیراکی اور کشتی رانی کے مقابلے منعقد کر کے نوجوانوں میں یہ صلاحیت پیدا کی جا سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ بچوں کو ابتدائی جماعتوں سے ہی صفائی اور ماحول دوستی کا شعور دیا جائے۔ ہم روزانہ نالیوں میں کچرا، شاپر اور جوس کے خالی ڈبے پھینک کر خود اپنی تباہی کے اسباب پیدا کرتے ہیں۔ جب برساتی نالے بند ہو جائیں تو بارش کا پانی گلی محلوں کو تالاب بنا دیتا ہے۔ اگر ہر شہری اپنے اردگرد کی صفائی کو اپنی ذمے داری سمجھے تو پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ نہیں آئے گی اور نقصان بھی کم ہو جائے گا۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ہمارے گلیشیئر بھی تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ یہ عمل محض قدرتی نہیں بلکہ بڑی حد تک ہماری سرگرمیوں کا نتیجہ ہے: درختوں کی کٹائی، بے تحاشا آلودگی، ماحول دشمن طرزِ زندگی اور گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج۔ گلیشیئر کا پگھلنا براہِ راست دریاؤں میں پانی کی مقدار بڑھا دیتا ہے اور یہ پانی آخرکار ہمارے شہروں اور کھیتوں میں سیلابی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ہمیں ماحول دوست طریقے سے زندگی گزارنے، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے، درخت لگانے اور قدرت کے ساتھ ہم آہنگ طرزِ زندگی اپنانے کی فوری ضرورت ہے۔
مختصر یہ کہ سیلاب صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اپنی زمین، اپنے وسائل اور اپنی نسلوں کے لیے اب بیدار ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ بروقت منصوبہ بندی، انفرادی شعور، ماحول دوست طرزِ زندگی اور اجتماعی کوششیں ہی اس آفت کو کم کر سکتی ہیں۔
سیلاب/ایک مسلسل امتحان اور ہماری ذمہ داریاں/تحریر/آپا منزہ جاوید اسلام آباد
میل
سیلاب: قدرتی آفت یا واٹر بم؟ / تحریر / عصمت اسامہ