0

چاندنی کا وعدہ /تحریر/میمونہ شفقت

افسانہ :چاندنی کا وعدہ
ازقلم میمونہ شفقت ✍️
رات کے ڈھائی بجے کا وقت تھا۔ کمرے کی کھڑکی سے چھن کر آتی چاندنی نے ساری میز پر کتابوں کو سفید سا بنا دیا تھا۔ ثُریا نے آدھی کھلی آنکھوں سے گھڑی دیکھی اور اچانک چونک گئی۔ گھڑی کی سوئیاں رکی ہوئی تھیں، بالکل بارہ بج کر ایک منٹ پر۔

“کیا بجلی گئی ہے؟” اس نے خود سے کہا۔ مگر کمرے میں پنکھا چل رہا تھا، بلب جل رہا تھا۔ صرف گھڑی رک گئی تھی۔

وہ کھڑکی کے پاس گئی، اور باہر ایک انوکھا منظر تھا۔ گلی سنسان تھی، مگر چاندنی میں سب کچھ دھندلا سا لگ رہا تھا۔ اور بیچ سڑک پر ایک لڑکی کھڑی تھی . سفید لباس میں، اور اس کی آنکھوں میں عجیب سی روشنی تھی۔

ثُریا کے دل نے دھڑکنا تیز کر دیا۔ وہ لڑکی ہاتھ کے اشارے سے اسے بلا رہی تھی۔

نہ جانے کیوں، بغیر جوتے پہنے ہی وہ باہر نکل گئی۔ ٹھنڈی ہوا نے اس کے چہرے کو چھوا اور زمین پر چاندنی کے دھبے راستہ دکھانے لگے۔

“تم کون ہو؟” ثُریا نے پوچھا۔

لڑکی نے مسکرا کر کہا:
“میں وہ ہوں جو تمہارے خوابوں میں چھپی رہتی ہوں۔ تم دن بھر حقیقت کا بوجھ اٹھاتی ہو، اس لیے میں صرف رات کو آتی ہوں۔”

“مگر… گھڑی کیوں رکی ہے؟”

“کیونکہ یہ لمحہ حقیقت اور خواب کے بیچ کا ہے۔ اگر وقت چلتا رہے تو خواب ٹوٹ جائے گا۔”
ثُریا کے قدم لڑکھڑائے۔ وہ پوچھنا چاہتی تھی کہ کیا یہ سچ ہے یا فریب؟ لیکن اس سے پہلے کہ سوال پورا کرتی، لڑکی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا:
“ایک وعدہ کرو۔ کل جب دن چڑھے تو تم اپنے دل کی پہلی خواہش لکھو گی… اور اسے پورا کرنے کی کوشش کرو گی۔ ورنہ میں ہمیشہ کے لیے خواب بن جاؤں گی۔”
ثُریا نے حیرانی میں ہاں کر دی۔
اگلی ہی پل ہوا تیز چلی، روشنی بکھری، اور وہ لڑکی غائب ہو گئ.

صبح جب آنکھ کھلی تو گھڑی بالکل ٹھیک چل رہی تھی۔ بستر کے پاس ایک کاغذ پڑا تھا، جس پر چاندنی کے دھبے جیسے نشان تھے۔ اور نیچے صرف ایک جملہ لکھا تھا.
“وعدہ مت توڑنا۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں