
✍️ — محمد حسنین معاویہ
پاکستان میں مساجد کی حیثیت صرف عبادت گاہ تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک پوری برادری کا مرکز، تعلیم و تربیت کا گہوارہ، اور روحانی سکون کا سرچشمہ ہوتی ہیں۔ ہمارے گلی کوچوں کی رونق، صبح کی اذان کی صدا، تراویح کی محافل، جمعہ کے خطبے — یہ سب مل کر ایک بستی کی روحانی شناخت بناتے ہیں۔ مگر افسوس کہ گزشتہ چند دہائیوں میں بعض فیصلوں اور اقدامات نے اس شناخت کو چوٹ پہنچائی ہے۔
یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں کہ مساجد کو مسمار کیا گیا ہو۔ چند سال قبل بھی ایسے ہی حالات پیدا ہوئے جب دارالحکومت کی متعدد مساجد کو غیر قانونی قرار دے کر گرا دیا گیا۔ اُس وقت کے عوامی ردِعمل، احتجاجات اور سانحات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ حکومت اور عوام، دونوں نے بھاری نقصان اٹھایا، مگر اصل نقصان عوام کے دلوں اور جذبات کو پہنچا، جو آج تک مندمل نہیں ہو سکا۔
اب ایک بار پھر حالات ماضی کی طرف پلٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں مختلف مساجد کے بارے میں مسماری کے احکامات جاری ہوئے اور گزشتہ رات اسلام آباد میں موجود ایک تاریخی مسجد ( مدنی مسجد ) کو رات کی تاریکی میں منہدم کر دیا گیا۔ اس اچانک اور خاموش کارروائی نے ملک بھر میں ایک بار پھر بے چینی اور اضطراب کی لہر دوڑا دی ہے۔
یہ صورتحال کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے جن کے جواب اب بھی تشنہ ہیں:
کیا سرکاری زمین پر صرف مساجد ہی نشانے پر ہیں، یا دیگر تعمیرات کو بھی اسی پیمانے پر پرکھا جاتا ہے؟
اگر دیگر غیر قانونی عمارتیں موجود ہیں تو ان کے خلاف اسی شدت اور یکسانیت سے کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟
کیا حکومت وقت کی ذمہ داری نہیں کہ وہ بستیوں میں مساجد کے لیے جگہ فراہم کرے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنائے؟
یہ سوالات محض جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ انصاف اور مساوات کے بنیادی اصولوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں مساجد صرف عبادت کا مقام نہیں بلکہ تعلیم، رفاہ اور وحدت کا مرکز بھی ہوں، وہاں ان کا گرا دینا صرف ایک عمارت کا ختم ہونا نہیں بلکہ ایک پوری روحانی و سماجی فضا کا بکھر جانا ہے۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ بیشتر مساجد عوام کے تعاون سے تعمیر ہوتی ہیں۔ محلے کے لوگ اپنی جمع پونجی، محنت اور وقت صرف کر کے انہیں کھڑا کرتے ہیں۔ ان میں بزرگوں کی یادیں، بچوں کی پہلی قرآنی آیات، اور محلے کی اجتماعی عبادات شامل ہوتی ہیں۔ جب ایسی جگہ کو مسمار کیا جاتا ہے تو یہ صرف پتھروں اور اینٹوں کی شکست و ریخت نہیں بلکہ لوگوں کی زندگی کے قیمتی حصوں کو روند دینا ہوتا ہے۔
ماضی کی تلخ مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ 2007 میں بھی جب اسی نوعیت کے اقدامات کیے گئے، تو اس کے نتیجے میں نہ صرف حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھے بلکہ بداعتمادی اور تنازع کا وہ بیج بویا گیا جو آج تک تناور درخت کی صورت موجود ہے۔ اس وقت بھی متعدد آوازیں بلند ہوئیں کہ بات چیت اور مصالحت سے مسئلہ حل کیا جائے، مگر طاقت کا استعمال غالب آیا، اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
آج کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں لگتی۔ اگر بروقت دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ تاریخ خود کو دہرا دے گی۔ حکمت اور تحمل ہی وہ راستہ ہے جو نقصان کو روکتا اور معاشرتی ہم آہنگی کو محفوظ رکھتا ہے۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مذہبی جذبات کا احترام کرے اور ایسا ماحول فراہم کرے جہاں کسی کو یہ خوف نہ ہو کہ کل اُس کی بستی کی مسجد مٹی کا ڈھیر بنا دی جائے گی۔ اسی طرح عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے مطالبات کو آئینی، قانونی اور پُرامن طریقوں سے پیش کریں تاکہ کوئی فریق فساد یا تنازع کا بہانہ نہ بنا سکے۔
موجودہ حالات میں عوام کا ردِعمل کیا ہونا چاہیے؟
پاکستان کے عوام کو موجودہ نازک صورتحال میں جذبات سے زیادہ حکمت سے کام لینا چاہیے۔ ان کا ردِعمل ایسا ہو جو نہ صرف مؤثر ہو بلکہ ملک کی سلامتی اور امن کو بھی محفوظ رکھے۔ اس مقصد کے لیے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. پرامن مگر مضبوط احتجاج — جلسے، ریلیاں اور اجتماعات ضرور ہوں مگر ان کا انداز ایسا ہو جو قانون کے دائرے میں رہے، تاکہ موقف کی ساکھ متاثر نہ ہو۔
2. قانونی چارہ جوئی — ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر کے مساجد کے تحفظ کو آئینی بنیادوں پر اجاگر کیا جائے۔
3. عوامی شعور بیدار کرنا — اخبارات، ٹی وی پروگرامز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر علمی اور دستاویزی بنیاد پر مہم چلائی جائے۔
4. مسلکی اتحاد — اس مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے بجائے تمام مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔
5. سفارتی اور بین الاقوامی سطح پر مؤقف پیش کرنا — اگر ممکن ہو تو عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی اس مسئلے سے آگاہ کیا جائے تاکہ دباؤ بڑھے۔
اگر عوام اور حکومت دونوں ہی ماضی کے اسباق سے سبق حاصل کریں تو ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں ایسی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔ ورنہ تاریخ کے زخم ایک بار پھر ہرے ہوں گے اور ان کا مرہم شاید آئندہ کئی برس تک نہ مل سکے۔