بچوں کی معروف ادیبہراحت عائشہ کی آج سالگرہ ہے/تحریر/علی حسن ساجد
دوبئی میں مقیم بچوں کی معروف ادیبہ راحت عائشہ کی آج سالگرہ ہے، راحت عائشہ کا بنیادی تعلق کراچی سے ہے،27 اگست ان کی تاریخ پیدائش ہے، علمی و ادبی شوق انہیں ورثے میں ملا کیونکہ معروف ادیب، مائل خیر آبادی ان کے والد کے چچا تھے جبکہ مقبول شاعر مونس انصاری ان کی والدہ کے ماموں تھے۔راحت مذہبی ماحول کے ساتھ ساتھ ادبی ماحول میں پروان چڑھیں، جامعہ یوسفیہ اللبنات ناظم آباد کراچی سے صرف 10 سال کی عمر میں قران کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی اور پھر براہ راست آٹھویں جماعت سے دنیاوی تعلیم کا آغاز کیا، سرسید گرلز کالج سے انٹر کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کرنے کے بعد مادر علمی جامعہ کراچی سے معاشیات کی ڈگری حاصل کی، اپنے کالج کی جانب سے کوئزمقابلوں میں بھرپور حصہ لیا، ریڈیو پاکستان کراچی اور پی ٹی وی کے مختلف پروگراموں میں شرکت کرکے انعامات بھی حاصل کئے، ریڈیو پاکستان کراچی سے صد سالہ جشن مسلم لیگ کوئز مقابلوں میں چار مرتبہ اول آکر ایک ریکارڈ قائم کیا، راحت عائشہ کے قلم سے لکھی ہوئی پہلی تحریر روزنامہ جنگ کے بچوں کے صفحے میں شائع ہوئی اس وقت ان کی عمر 7برس تھی پھر یہ سلسلہ کچھ وقت کے لئے جاری نہ رہ سکا لیکن 2014سے لکھنے کا باقاعدہ آغاز کیا اور بچوں کے سب ہی رسالوں میں انہوں نے باقاعدگی سے لکھنا شروع کیا، راحت عائشہ کی بچوں کے لئے چار کتابیں شائع ہوکر مقبول ہوچکی ہیں ان میں “پیڑکا بھوت،” گمشدہ چابی، بلیوں کے لٹیرے اور موتیوں والا ہار شامل ہے، آپ کی تحریر کردہ کتاب گمشدہ چابی کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی ہر کہانی کی بنیاد ایک حدیث پر رکھی گئی اور اس کتاب کو وزرات مذہبی امور حکومت پاکستان کی جانب سے بچوں کے ادب کی کیٹگری میں صدارتی انعام سے نوازا گیا، راحت عائشہ کی کہانیاں پاکستان میں بچوں کے اخبارات اور رسائل کے ساتھ ساتھ انڈیا کے مختلف رسائل میں بھی شائع ہوتی ہیں، ان رسالوں میں فاروق سید کی زیر ادارت ممبی سے شائع ہونے والے رسالے ماہ نامہ گل بوٹے اور پھول بھٹکل شامل ہیں، راحت عائشہ کے دو نام ہیں ان کا کہنا ہے کہ ”راحت اصل میں لڑکوں کا نام بھی ہوتا ہے بچپن میں بچے میرا مذاق اڑاتے بس اسی کوشش میں رہتی کہ نام تبدیل کروں، مختلف نام آزمائے آخر کار راحت عائشہ فائنل ہوا“۔انہیں بچوں کے لئے لکھنا اچھا لگتا ہے لیکن ساتھ ساتھ وہ بڑوں کے لئے بھی لکھ رہی ہیں۔
مدیر بچوں کا اسلام محمد فیصل شہزاد ان کی کتاب گمشدہ چابی میں لکھتے ہیں کہ راحت ایک اسکول ٹیچر ہیں اس لئے بچوں کی نفسیات کو بخوبی سمجھتی ہیں، سو ان کے لئے ایک بچہ بن کر بچوں کے لئے لکھنا بہت آسان ہے یہی وجہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے مکالمات کے ذریعے آگے بڑھتی ان کی کہانیاں، چھوٹے بچوں کے معصوم تخیل کو مہمیز کرنے کے لئے نہایت مناسب ہیں، بلا شبہ وہ بچوں کے ادب میں اب کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں پہلے ہی ان کی بیسٹ سیلر کتاب پیڑ کا بھوت شائع ہو کر ہر خاص و عام میں شرف قبولیت پا چکے ہیں، ہفت روزہ بچوں کے اسلام میں بھی وہ اب باقاعدگی سے کہانیاں لکھ رہی ہیں، راحت عائشہ کہتی ہیں کہ انہوں نے شروع ہی سے بچوں کی کتابوں اور ناول کا مطالعہ کیا ہے پھر ابتداء بھی بچوں کے لئے لکھ کر کی، آہستہ آہستہ لکھنے میں پختگی آتی گئی اور بچوں کے لئے لکھنے میں مزا بھی آنے لگا اس طرح یہ سلسلہ چل نکلا، ان کا خیال ہے کہ لکھنے کے لئے مطالعہ بہت ضروری ہے پڑھے بغیر اچھا لکھنا مشکل کام ہے، راحت عائشہ کو اشتیاق احمد اور شفیق الرحمن کی تحریریں پسند ہیں جبکہ قدرت اللہ شہاب کا لکھا ہوا شہاب نامہ ان کی پسندیدہ کتاب ہے، انہیں مزاح پڑھنا اچھا لگتا ہے، راحت عائشہ نے مختلف موضوعات پر کہانیاں لکھی ہیں ہر کہانی کا موضوع ایک نہیں ہوتا اور نہ ہی انداز ایک ہوتا ہے وہ کوشش کرتی ہیں کہ بچوں کو اچھے الفاظ دیں، جاسوسی، سائنسی، مذہبی اور فوجی زندگی کی کہانیاں لکھتی رہی ہیں، راحت عائشہ کا خیال ہے کہ بچے کتابوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں کتابوں کی جگہ موبائل نے لے لی ہے، موبائل اور ٹیبلیٹ ہر بچے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اب جب ان کے ہاتھو ں میں موبائل دے دیا ہے تو والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ اس کے ذریعے ہی پڑھنے کے لئے کچھ نہ کچھ دیتے رہیں اور کتابوں کا شوق پیدا کریں۔
راحت عائشہ کہتی ہیں کہ ان کی کہانیو ں میں زندگی میں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے حالات و واقعات ہی ہیں لیکن اس صورتحال میں پیارے نبی ﷺ کا کیا عمل یا فرمان ہے وہ ان کہانیوں میں بیان کرنے کی کوشش کرتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ یہ کوشش بھی رہی ہے کہ ایک کہانی میں بچے کو ایک حدیث ذہن نشین کرادی جائے، راحت عائشہ بیکن ہاؤس اسکول سسٹم پی ای سی ایچ ایس برانچ سے منسلک ہیں جہاں وہ بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ انہیں علم و ادب اور تہذیب و ثقافت سے بھی روشناس کراتی رہتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ وہ بچوں کے مقبول رسالے ماہ نامہ ”بچوں کی دنیا“کی ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیتی ہیں، بچوں کے ادب کے حوالے سے ملک بھر میں ہونے والی مختلف کانفرنسز، سیمینارز اور پروگراموں میں شرکت سے بچوں کے ادب سے ان کی والہانہ محبت کا اظہار ہے، راحت عائشہ لاہور، ملتان، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں پروگراموں میں شرکت کرچکی ہیں جبکہ کراچی میں ہونے والے کم و بیش سب ہی پروگراموں میں شریک ہوتی ہیں، خوش اخلاقی، رواداری، محبت اور شفقت ان کی طبیعت کا خاصا ہے، ان کی سالگرہ کے موقع پر ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں، خوش رہیے، جیتی رہیے اور یونہی بچوں کے لئے ادب تخلیق کرتی رہیے۔