
نام و نسب اور خطابات:
آپ کا نام عائشہ ہے۔ خطاب اُم المومنین ہے۔ القاب صدیقہ، حبیبۃ الرسول، موَفقہ، طیبہ، حمیرا ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے بنت الصدیق سے بھی آپ کو یاد فرمایا ہے۔اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو یَا عَائشُۃ کے نام سے بھی خطاب فرمایا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ولادت با سعادت بعثت نبوی کے پانچویں سال ماہ شوال مطابق ماہ جولائی 614ء کو مکہ مکرمہ میں ہوئی۔حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا کاشانہ وہ برج سعادت تھا جہاں اسلام کی شعاعیں سب سے پہلے جلوہ فگن ہوئیں اسی بنا پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سے میں نے اپنے والدین کو پہچانا ، مسلمان پایا۔
بھائیوں کے نام:
1. عبد الرحمٰن بن ابی بکرؓ
2. عبد اللہ بن ابی بکرؓ
3. محمد بن ابی بکر
بہنوں کے نام:
1. اسماء بنت ابی بکرؓ
2. ام کلثوم بنت ابی بکر۔
علمی مقام:
اُمّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تمام ازواجِ مطہرات میں ایک خاص مقام رکھتی ہے، آپ کو مجتہد صحابہؓ میں شمار کیا جاتا ہے، اصحابِ رسول کو جب کسی مسئلہ میں مشکل پیش آتی تو آپ کے پاس حاضر ہوتے۔ اپنے مسائل پیش کرتے، آپ ان کے مسائل کا تسلی بخش جواب عنایت فرماتیں۔ ایک کثیر جماعتِ صحابہؓ و تابعینؒ کو آپ سے شرفِ تلمذ حاصل ہے۔ کبار صحابہ کرام وصحابیات علیہم الرضوان کو آپ پر حد درجہ اعتماد تھا۔ مختلف علوم پر آپ کو مکمل دسترس تھی۔ آپ ؓ کے مایہ ناز شاگرد، بھانجے اور تربیت یافتہ حضرت عروہؒ بن زبیرؓ کا قول ہے:
’’میں نے قرآن،فرائض ،حلال و حرام، فقہ، شاعری، طب، عرب کی تاریخ اور نسب کا عالم سیدہ عائشہ ( رضی اللہ عنہا ) سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘(تذکرۃ الحفاظ)
طبقاتِ ابن سعد میں ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے مروی ہے کہ ’’میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ نہ کسی کو سنتِ رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا عالم دیکھا، نہ کسی ایسے معاملے میں جس میں رائے کی حاجت ہو، ان سے زیادہ کسی کو فقیہ دیکھا، اور نہ کسی آیت کے شانِ نزول میں ان سے زیادہ عالم دیکھا اور نہ فرائض میں کسی کو آپ سے بڑھ کر پایا۔‘‘
اسی طرح عطا بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’عام معاملات میں حضرت عائشہ( رضی اللہ عنہا ) سب سے بڑھ کر فقیہہ، سب سے بڑی عالمہ اور رائے ومشورہ میں سب سے بڑھ کر تھیں۔‘‘
سیدہ عائشہ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد خلافت میں اپنی وفات تک برابر فتویٰ دیتی رہیں۔
رسول اللہﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد آپ کے پاس اکابر صحابہؓ حضرت عثمان، حضرت عمر رضی اللہ عنہما آدمی بھیج کر احادیث دریافت کیا کرتے تھے۔
ایک اور روایت ملتی ہے کہ آپ ؓ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں بھی فتویٰ دیتی تھیں۔ (طبقاتِ ابن سعد)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہ فصاحت و بلاغت میں بھی نمایاں مقام رکھتی تھیں ،فضاحت و بلاغت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعد آپ کا درجہ ہے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کے خطبات میں جوشِ خطابت، فصاحت و بلاغت، اسرار و اشعار کی خوبصورتی سےآمیزش ہوتی تھی۔ ترمذی میں موسیٰ بن طلحہ کا یہ قول نقل ہے: ’’مَارَاَیْتُ اَفْصَحَ مِن عَائِشَۃ۔‘‘ ۔۔۔۔ ’’میں نے عائشہؓ سے زیادہ کسی کو فصیح اللسان نہیں دیکھا۔‘‘
اپ کے اندر شاعرانہ صلاحیت خوب تھی لیکن اپ اشعار نہیں کہتی تھیں، آللہ تعالیٰ نے آپ کو مختلف علوم میں خاص مہارتِ عطا فرمائی تھی۔
علم الانساب تو آپ کو وراثت میں ملا تھا، کیونکہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ علم الانساب میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے، علمِ کلام کے بارے میں آپ کو خاص ملکہ حاصل تھا، جن میں رؤیتِ باری تعالیٰ، عصمتِ انبیاء کرام علیہم السلام آپ کے نظریات و خیالات سے متکلمین کو راہنمائی ملتی ہے۔
علمِ تاریخ میں ہشام نے اپنے والد عروہ کا جو قول بیان کیا ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں کہ :’’تاریخ و انساب میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر جاننے والا کوئی نہ تھا۔‘‘
حضرت عروہؒ کہتے ہیں کہ: ’’ میں نے فقہ،طب اور شعر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ علم والا نہیں دیکھا۔
اسلامی تاریخ، غزوات، نزولِ قرآن کی ترتیب و مقامات، وحی کی کیفیت اور دیگر واقعات حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ ہی کے ذریعے امت مسلمہ تک پہنچے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہ کی بیان کردہ احادیث، آپ کے فتاویٰ اور اقوال آج بھی امت کے لیے رشد و ہدایت کا ذریعہ ہیں اور تا قیامت آپ کا یہ فیض جاری و ساری رہے گا۔
نامور سیرت نگار حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ لکھتے ہیں: ’’احکامِ شرعیہ کا چوتھائی حضرت عائشہؓ سے منقول ہے۔‘‘ (سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ، جلد سوم)
سیرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہ میں حضرت مولانا سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ آپ کا علمی مقام اور رتبہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:
’’روایات کی کثرت کے ساتھ ساتھ تفقُّہ اور قوتِ استنباط کے علاوہ سیدہ عائشہؓ کی روایتوں کی ایک خاص خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ جن احکام اور واقعات کو نقل کرتی ہیں، ان کے علل و اسباب بھی بیان کرتی ہیں۔وہ خاص حکم جن مصلحتوں پر مبنی ہوتا ہے، ان کی تشریح کرتی ہیں۔
تذکرۃ الحفاظ میں علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
آپ کو آٹھ برس اور پانچ ماہ نبی ﷺ کی صحبت و رفاقت میں رہنے کا شرف حاصل ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہ قرآن کریم کی مفسرہ تھیں اور احکام اسلام کی حکمت اور فلسفہ بیان کرنے میں اعلیٰ اور بلند مقام رکھتی تھیں۔ آپ رضی ﷲ عنہ کو ’’علم اسرار دین‘‘ کی بانیہ محقیقین نے قرار دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ احکام شرعیہ کی حکمت و فلسفہ بیان کرنے میں پہل حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہ نے کی جس پر آگے چل کر امام غزالیؒ اور شاہ ولی اللہ دہلویؒ جیسے فضلاء نے عظیم الشان دینی فلسفہ کی بنیاد رکھ دی۔
طب یعنی علاج پر بھی حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہ کو دسترس حاصل تھی اور ان کے سب سے بڑے شاگرد اور بھانجے حضرت عروہ بن زبیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دور میں حضرت عائشہؓ سے زیادہ طبی معلومات رکھنے والا کوئی نہیں دیکھا۔
حضرت عائشہؓ کے علمی کمالات کو مختصر بیان کیا جائے تو اس سے واضح نظر اتا ہے کہ اپ رضی ﷲ عنہ قرآن کریم کی بہت بڑی مفسرہ تھیں، حدیث رسولؐ ﷺ کی ایک بہت بڑی راویہ و شارحہ تھیں، دینی مسائل و احکام کی حکمت و فلسفہ بیان کرنے میں اپ رضی ﷲ عنہ کو خاص حکمت رب العزت نے عطا فرمائی تھی ۔ عرب قبائل کی روایات،ثقافت و نسب ناموں و تاریخ پر اپ رضی ﷲ عنہ کو عبور حاصل تھا۔ انہیں فضاحت و بلاغت اور شعر و خطابت پر عبور حاصل تھاحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کو مجتہد درجے کی مفتیہ حاصل ہونے کا بھی مقام حاصل ہے۔ عوام الناس کے مسائل کو حل کرنے میں بھی عبور حاصل تھا۔ اس کے علاوہ طب و علاج کے بارے میں بھی ضروری معلومات سے بہرہ ور تھیں۔ یہ سب تعلیمات انہوں نے درسگاہ نبویؐ کی صحبت پاک سے حاصل کیے تھے۔
اس لیے عورتوں کے لیے کسی دینی درسگاہ کا نصاب سیرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہ میں موجود ہے۔ اس لیے امت مسلمہ میں بچیوں کی تعلیم و تربیت کے لیے سب سے بڑا اسوہ ام المومنین حضرت عائشہؓ کی ذات گرامی ہے جن کو راہنما اور معیار بنائے بغیر ہم اپنی نئی نسل کی بچیوں کو دینی تعلیم سے بہرہ ور کرنے کے تقاضے پورے نہیں کر سکیں گے۔اس لیے اسوہ عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہ کو سمجھنا اس پر عمل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اخر میں اللہ سبحانہ وتعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو دین کی سمجھ اور اس پر عمل کرنے والا بنادے ۔امین یارب العالمین۔