0

صبر: ایک گہرے سمندر کی مانند تحریر/ ام عبدالرحمن

صبر: ایک گہرے سمندر کی مانند
تحریر/ ام عبدالرحمن

صبر کو اگر ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ہے “عمق” — گہرائی۔ یہ محض برداشت یا خاموشی کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی اندرونی کیفیت ہے جو انسان کو خود اس کی ذات سے اور اللہ کی ذات سے روشناس کراتی ہے۔
یہ بالکل ویسا ہی تجربہ ہے جیسے ایک مسافر، جو صحراؤں میں بھٹک کر پیاس سے نڈھال ہو، اچانک پانی کے ایک قطرے میں زندگی کی امید پالے۔ صبر بھی اسی طرح انسان کو معرفت کے دروازے تک لے جاتا ہے۔

صبر سمندر کی مانند گہرا کیوں ہے؟

صبر سمندر جیسا اس لیے ہے کہ:
●اس کی سطح پر سکون ہوتا ہے، لیکن تہہ میں بے شمار طوفان چھپے ہوتے ہیں۔
●جو شخص صبر کرتا ہے، وہ بظاہر خاموش ہوتا ہے، مگر اس کے دل میں احساس، سوالات، درد اور امید کا طوفان برپا ہوتا ہے — جسے وہ اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔
●یہی کیفیت اسے اپنے باطن میں جھانکنے پر مجبور کرتی ہے، جہاں وہ اپنے وجود کی گہرائیوں سے آشنا ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:
“اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف، بھوک، مال، جان اور پھلوں کی کمی سے؛ اور خوشخبری ہے صبر کرنے والوں کے لیے۔”(سورۃ البقرہ: 155)

آزمائش انسان کی زندگی کا وہ موڑ ہوتا ہے جہاں وہ بکھر بھی سکتا ہے اور سنور بھی — لیکن جو صبر کا دامن تھامے، وہ اللہ کی طرف سے خوشخبری کا حق دار ٹھہرتا ہے۔ ایسے لمحے انسان کو دو راستے دکھاتے ہیں:

●ایک بے صبری کا، جو دل کو توڑ دیتا ہے
●دوسرا صبر کا، جو دل کو اللہ سے جوڑ دیتا ہے

1: صبر کا راستہ — قربِ الٰہی کی طرف سفر
جب انسان صبر کا انتخاب کرتا ہے تو:
● وہ اپنے جذبات، خواہشات، کمزوریوں اور بے بسی کو پہچاننے لگتا ہے۔
● اسے یہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ ہر چیز اس کے مکمل اختیار میں نہیں۔
●وہ اپنے نفس کی حدود کو سمجھ کر، اللہ کی قدرت، علم اور رحمت** کا ادراک کرنے لگتا ہے۔
●یہ ادراک، بندے کو عاجزی، تسلیم، اور رضاکی طرف لے جاتا ہے۔
●صبر اسے اندرونی گہرائی سے روشناس کراتا ہے، اور وہ رب کے فیصلوں پر بھروسہ کرنا سیکھتا ہے۔
● یہی کیفیت، بندے کو معرفت، قرب اور روحانی بلندی کی طرف لے جاتی ہے۔

2: بے صبری کا راستہ — نفس کی بغاوت اور بے سکونی
جب انسان صبر کو چھوڑ کر بے صبری کی راہ اپناتا ہے تو:
●وہ حقیقت کا سامنا کرنے سے گریز کرتا ہے اور نتائج پر فوری اختیار چاہتا ہے۔
●یہ خواہش اسے جلد بازی، بے چینی اور اضطراب میں مبتلا کر دیتی ہے۔
●وہ حالات کو قبول کرنے کے بجائے شکایت، شکوہ اور مایوسی کی کیفیت میں گھِر جاتا ہے۔
● بے صبری دراصل ایک روحانی بغاوت ہے — جو اللہ کے فیصلوں سے اختلاف، اور اس کی حکمت سے بے اعتمادی کو ظاہر کرتی ہے۔
نتیجتاً، اس کے دل میں قنوطیت، بے یقینی اور ناامیدی جنم لیتی ہے۔
ایسے میں انسان کا دل اللہ سے جُڑنے کے بجائے ٹوٹنے لگتا ہے۔

صبر: ایک روحانی طاقت
صبر انسان کے باطن میں ایک ایسی قوت جگاتا ہے جو اسے دنیاوی طوفانوں میں سنبھالے رکھتی ہے۔ یہ محض وقتی برداشت نہیں، بلکہ ایک روحانی طاقت ہے جو انسان کو اپنی ذات کے ساتھ ساتھ اللہ کے بھی قریب کر دیتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ”
“کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع تر عطیہ نہیں دیا گیا۔”
(صحیح بخاری، حدیث: 1469)

اور ایک اور حدیث میں فرمایا:
“مؤمن کا ہر حال خیر پر ہوتا ہے… اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، اور یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے؛ اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے، اور یہ بھی اس کے لیے بہتر ہوتا ہے۔”(صحیح مسلم)
یہ حدیث صبر کی روحانی نفسیات کو بیان کرتی ہے — صبر انسان کو بے عملی نہیں سکھاتا، بلکہ یقین، حکمت، تحمل، دعا اور امید کے ساتھ جینے کا سلیقہ عطا کرتا ہے۔

اختتامیہ: دل کی گہرائی میں غوطہ

صبر ایک خاموش، مشکل مگر روشن راستہ ہے جو انسان کو ظاہری سطح سے نکال کر باطنی گہرائی تک لے جاتا ہے، جہاں اللہ کی رضا، قرب اور محبت کے خزانے اُن کے لیے منتظر ہوتے ہیں جو آزمائش میں بھی رب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

یہ راستہ انسان کو اس کی فانی حیثیت سے آشنا کر کے، اللہ کی لامحدود قدرت اور محبت کی پہچان عطا کرتا ہے۔

جیسے سمندر کی تہہ میں خزانے چھپے ہوتے ہیں، ویسے ہی صبر کے لمحات میں بھی اللہ کی معرفت، محبت اور رضا کے خزانے پوشیدہ ہیں — مگر یہ خزانے صرف انہیں ملتے ہیں جو دل کی گہرائی میں غوطہ لگانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

عملی نکات :
آئیے صبر کو قربِ الٰہی کا ذریعہ بنانے کی کوشش کریں:

1. ہر دکھ کو اللہ سے قریب ہونے کا موقع سمجھیں — سزا نہیں۔
2. خود سے سوال کریں: میرا ردعمل مجھے اللہ سے دور تو نہیں کر رہا؟
3. دکھ میں دعا کو ترجیح دیں، خواہ زبان ساتھ نہ دے — دل بولے گا۔
4. روح کی آواز سننے کے لیے خاموشی اختیار کریں — شکایت کی نہیں، قرب کی۔
5. رسول اللہ ﷺ کی سنت کو یاد رکھیں: تکلیف کے باوجود دعا، شفقت، اور امید۔
اس دعا کے ساتھ
اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الصَّابِرِينَ، وَارْزُقْنِي قُرْبَكَ فِي كُلِّ مُصِيبَةٍ
“اے اللہ! مجھے صبر کرنے والوں میں شامل فرما، اور ہر مصیبت میں اپنا قرب عطا فرما۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں