0

سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم / تحریر / ام حسن

Umar Hassan
تحریر / ام حسن

سیرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
از قلم ام حسن

جب بھی انسان کمال حسن، اخلاق عظیمی اور کردار کی بلندی کا تصور کرتے ہیں تو ایک ہی ذات کو اپنے سامنے پاتے ہیں، وہ ہیں میرے محبوب نبی، محمد مصطفی، احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف رب کائنات کے محبوب ترین نبی تھے، بلکہ تمام انسانیت کے لیے بھی رحمت اللعالمین بنا کر بھیجے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت نہ صرف امت مسلمہ کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے رہنما ہے۔
ظاہری حسن و جمال۔
چہرہ مبارک
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ نہایت چمکدار اور کھلتا ہوا تھا۔ چہرہ مبارک بالکل گول نہ تھا، بلکہ تھوڑی سی گولائی لیے ہوئے تھا۔ چہرہ مبارک چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا تھا۔ پیشانی مبارک کشادہ، داڑھی مبارک گنجان اور بھرپور تھی۔ دہن مبارک اعتدال کے ساتھ فراغ تھا۔
انکھیں مبارک
انکھیں سیاہ، پلکیں دراز، نگاہ میں حیا اور وقار تھا
جسمانی سخت
انگلیاں مبارک لمبی، پاؤں مبارک کے تلوے قدر گہرے تھے قدم ہموار اور اتنے نرم کے اس پہ پانی نہیں ٹھہرتا تھا۔ گردن سراہی کی طرح لمبی، کندھوں کے درمیان مناسب فاصلہ اور مہر نبوت تھی۔
انداز گفتگو
غور و فکر میں ڈوبے رہتے تھے۔ بے ضرورت کلام نہ فرماتے تھے۔ کسی کی گفتگو کے دوران بات کو ٹوکتے نہ تھے۔ گفتگو میں نرمی، سچائی اور وزن تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کم، مگر دل پر اثر کرنے والے ہوتے تھے۔
اخلاق عادت
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق و عادات کے تمام خوبیوں کمالات اور اعلی صفات کے مجموعہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا سب سے روشن پہلو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق حسنہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نرم مزاج، بردبار، صابر اور عادل تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ معاف کرنے کو ترجیح دی، کبھی کسی سے بدلہ نہ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔
”مجھے اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔“
قرآن مجید آپ کے بلند اخلاق کی کچھ اس طرح گواہی دیتا ہے۔
”اور بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق کے بلند ترین درجے پر فائض ہیں۔“(سورہ قلم آیت نمبر چار)
سیرت نبوی علیہ وسلم کامل نمونہ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس اسلام کے اصل روح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہر انسان کے لیے کامل نمونہ ہے۔ جیسے کہ قرآن میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔
”یقینا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔“ (سورۃ الاحزاب آیت نمبر 24)
سیرت طیبہ نہ صرف ایک فرد بلکہ پوری انسانیت کے لیے نمونہ اور مشعل راہ ہے۔
نبوی مشن
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہالت میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو علم، عدل، محبت اور توحید کا پیغام دیا۔ وہ پیغام جو آج بھی انسانیت کے لیے روشن چراغ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ نے قرآن میں ارشاد فرمایا۔ ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو گواہ، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا، اللہ کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بھیجا۔“ (سورۃ الاحزاب آیت نمبر 45 سے 46)
رحمت اللعالمین
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوقات کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں، جانور، جنات، تمام مخلوقات کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی انسانیت کے لیے شفاعت کا ذریعہ ہوں گے۔ قرآن نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رحمت اللعالمین کا لفظ استعمال کیا۔
”اور ہم نے اپ کو تمام ان جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہمارے ایمان کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ لیکن اس سے اصل محبت لازم آتی ہے اگر صحابہ نے ”فداک ابی و امی یا رسول اللہ“ کہا تو انہوں نے اپنے عمل سے ظاہر کیا۔ لیکن ہم جھوٹا دعوی محبت کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امتی ہونے کا شرف حاصل ہونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل نہیں کرتے۔ اگر ہم اپنے معاشرے کو سدھارنا چاہیں اور ایک پُرامن، باشعور معاشرے کی تشکیل دینا چاہیں تو اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نہ ہوگا۔
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں۔
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں