’’حضرت!یہ ہمارے نئے سیکرٹری اطلاعات ہیں۔یہ کبھی کبھی آپ کے پاس آیاکریں گے۔آپ اَن کی خبراوررپورٹ بنانے کے سلسلے میں راہ نمائی کردیاکریں۔‘‘آج محمدعادل انصاری کے سفرِ آخرت کی خبروحشت اثرسوشل میڈیاپردیکھی ہے توکئی برس پہلے کامنظرنگاہوں میں گھوم گیاہے۔یہ الفاظ تھے مولاناعمرفاروق کے،جوتب کراچی یاسندھ کے جماعتی ذمےدار ہواکرتے تھے۔ایم ایس اوکومیں اپنی’’نرسری‘‘کہتا ہی نہیں مانتا بھی ہوں۔انہی کی بزموں سے ہم نے بولناسیکھا۔انہی کی تربیتی نشستوں سے ہم نے زمانے کے ساتھ چلناسیکھا۔مدارس کے طلبہ میں فطری طورپرجوجذباتیت ہواکرتی ہے،ہم نے اس جماعت کی برکت سے کئی برس قبل ہی اس سے چھٹکارا پالیاتھا۔نظریے کی عظمت ہویاکازکی اہمیت،کارکن کی قدر ہویا راہ نما کااحترام،وقت کی قربانی ہویامال کی،خودکولگاناہویا کھپاناہو؛یہ سارے گُراس جماعت کے پاس موجودہیں۔میں اکثراحباب کومشورہ دیتاہوں کہ بچے کوکالج میں داخل کرانے سے پہلے ایم ایس اومیں داخل کرادو۔ہم نے اس جماعت کی ہرصداپرلبیک کہی ہے،میدان ہماراقلم کاہے،سوہماری خدمات کادائرہ بھی اسی کے تحت گھومتارہا،کبھی بولنے کاحکم ہواتوبولے بھی۔اس جماعت کے پرکارکن سے محبت ہے اور ہرراہ نماسے عقیدت۔خلاقِ عالم نے اس جماعت کوقحط الرجال کی آزمائش سے بچارکھاہے،باقاعدگی سے الیکشن ہوتے ہیں،الیکشن سے پہلے سابق ذمے داروں کا محاسبہ ہوتاہےاور وہ اپنے سینے کابوجھ ہلکاکرکےاپنی ذمے داریوں سے سبک دوش ہوجاتے ہیں۔اس حال میں کہ ضمیرمطمئن اور دل ودماغ جماعت کی محبت سے مزیدسرشارہوتاہے۔یہ محمد عادل انصاری سے پہلی ملاقات تھی۔پھراس نے آنے جانے کی ترتیب رکھی۔ہمیں اللہ نے جوبھی صلاحیت دی ہے،ہم اسے تقسیم کرنے پریقین رکھتے ہیں۔اس میں بُخل کوہم اللہ کی نعمت کی ناقدری سمجھتے ہیں۔ایسے ناقدروں کواللہ تعالیٰ محروم بھی کردیتے ہیں۔سوعادل انصاری کورپورٹنگ کے گُرسِکھائے،بیان اوررپورٹ کافرق بتایا،ای میل ایڈریسز دیے،کچھ رابطہ نمبرصحافی دوستوں کےاس کے ساتھ شیئرکیے۔پھرفیصلہ یہ ہواکہ لیاقت آبادسے آنا،جانامشکل ہے،لہٰذااب ترتیب یہ ہوکہ وہ خبر،رپورٹ بناکرمجھے واٹس ایپ کردیاکرے۔وہ ایک دینی ادارے کافاضل ہونے کے ساتھ ساتھ اہلِ لسان اورباقاعدہ استادوں سے صحافت کورس کیاہوانوجوان تھا،سواُس نے جلدہی اِس فیلڈمیں درک حاصل کرلیا۔ایک معاصرروزنامہ میں باقاعدہ کام بھی کرنے لگا،یوں وہ فیلڈجرنلزم سے وابستہ ہوگیا،جس سے اُس کی صلاحیتوں میں مزیدنکھار پیداہوا۔ایم ایس اوکی خبرایسی نپی تُلی نیوزڈیسک پرپہنچتی تھی کہ سب ایڈیٹراسے رَد کرہی نہ پاتاتھا،یوں ایم ایس اوکراچی کوایک اچھاترجمان مل گیا۔چندبرس قبل کی بات ہے،اُس کاختم قرآن تھا،مجھے بھی خاص طورپرمدعوکیا،میری ڈیمانڈہوتی ہے پِک اینڈڈراپ کی،سوبرادرعزیز عنایت اللہ فاروقی کے ذمے یہ کام لگایا گیا۔اُس کے ساتھ سفرشروع ہوا۔لالوکھیت میں داخل کیاہوئےکہ اُس کی بائک جواب دے گئی۔کافی کوشش کے بعدبھی بائک نے آگے بڑھنے سے انکارکیا توعادل نے کسی اور ساتھی کوبھیجااوراُس نے مجھے عادل کے گھرتک پہنچایا۔اسی دن عادل کے والد بزرگوار سے بھی ملاقات ہوئی۔اُنھیں خوشی تھی کہ اُن کابیٹا عالم بننے والاہے،ایک دوسال باقی تھےغالباً۔ہم نے میڈیاکی اہمیت اوراحتیاطوں پربات کی اورپُرتکف دعوت کے بعداجازت لی۔عادل کاجب بھی سائٹ کی طرف چکرلگتا،کوشش ہوتی کہ ہم سےملتاہوا جائے۔ایک بارمیری اورعادل کی مس انڈراسٹینڈنگ بھی ہوئی۔مجھے ہفتہ بھریاددہانی کراتے رہےکہ ہمارا فلاں سیمینارہورہاہے،آپ کی شرکت لازمی ہے،آپ کی سہولت کے لیے ہم نے دن بھی جمعے کارکھاہے،دوبجے بندہ لینے آجائے گا،آپ کی شرکت لازمی ہے۔موضوع بھی میڈیاسے متعلق تھا۔ہم نے ہامی بھرلی اورخوب تیاری کی کہ فکری سیمیناروں میں وقت کی بڑی اہمیت ہوتی ہےاورکام کی بات کرنی پڑتی ہے،اُس کامعاملہ عوامی اجتماعات سے مختلف ہوتا ہے۔اللہ کی قدرت!عادل کے ذہن سے بات نکل گئی۔ہم نے عصرتک انتظار کیا،رابطہ کرنے کی کوشش کی،اللہ کومنظورنہ ہوتوبندے کی ہرکوشش رائیگاں چلی جاتی ہے۔خیر،ہم نے بعدمیں واٹس ایپ پریاددِلایاتوجواب میں انتہائی معذرت کی،بعدمیں ملاقات پربھی معذرت کی۔چند دِن میں ناراض رہا،اُن کے سارے واٹس ایپ گروپوں سے لفٹ ہوگیا،پھر معاملات نارمل ہوگئے۔آج میرابھائی اللہ کے حضورپیش ہوچکاہے،میں اُسے دل سے معاف کرتا ہوں اورآپ سب کوگواہ بناتا ہوں۔گھر اور معاش کی مصروفیات انسان کوویسے ہی بہت انگیج کردیتی ہیں،عادل اس کے ساتھ ساتھ عارضہ قلب کابھی مقابلہ کررہاتھا۔اُس کی صحت گرتی جارہی تھی،لیکن وہ پورے عزم وہمت اورحوصلےواستقامت کے ساتھ زندگی کی گاڑی کودھکیل رہاتھا۔اپنا ڈیزائننگ کاکام شروع کررکھاتھا،اس کی وجہ سے بھی مصروفیت بڑھ گئی تھی۔کبھی کبھی رائے لینے کے لیے اپنے فن پارے بھیجتا تھاکہ اس میں مزیدکیا بہتری کی جاسکتی ہے؟ہم مشورہ دیتے تواُس پرعمل بھی کرتا تھا۔ذہن پرزورڈالنے کے باوجود،یادنہیں آرہایہ دھان پان سانوجوان آخری بار کب ملاتھا؟لیکن اس کے ساتھ جتنی ملاقاتیں ہوئیں،سب دماغ کی اسکرین پرایک ایک کرکے ابھررہی ہیں،جن سے دل میں ایک عجب ہوک(کسی دُکھ یا تکلیف کے باعث سینے یا دل میں اُٹھنے والا شدید درد)سی اُٹھتی ہے۔عادل!اتنی بھی کیاجلدی تھی جانےکی؟لوگ اسّی اسّی سال جی کربھی کہتے ہیں ابھی توبڑی عمرپڑی ہے۔ابھی توتم اپنے بوڑھے والدین کاسہارا بنے تھے۔ابھی توہم تمھارےسرپرسہراسجانےکےارادےباندھ رہےتھے،مگرتم نےحورانِ جنت کےبُلاوےپرپلٹ کےدیکھابھی نہیں اورچل دےاُن پاکیزہ بیویوں کی طرف،جنھیں اب تک کسی جن اورانسان نےچھواتک نہیں ہے۔دیکھو!ایم ایس اوکاہرقائدوکارکن تمھاری جُدائی پرحزین وغمگین ہے۔سب تمھاری راہ دیکھ رہے ہیں۔تم اتنے لمبے سفرپرچلے گئے،سب کوچھوڑکر،الوداع توکہہ دیتے،چندلمحےہی ہمارے ساتھ بِتالیتے،تاکہ یادوں کی ناگن یوں دل ودماغ کوپھن مارمارکرباربارمجروح تونہ کرتی۔کیسے یقین کروں کہ تم چلے گئے۔کالی داڑھی،اُٹھتی جوانی،امنگوں بھری زندگی،پہاڑ جیسے عزائم،طویل اہداف،ٹارگٹس کوپانے کی کوششیں،روشن مستقبل کے خواب۔۔۔یہ موت کے اِشارےہیں؟تمھیں توابھی لمبی عمرجیناتھا۔مگرمگراے خالقِ کون ومکاں،اے مالکِ کُن فیکون!ہم تیرے فیصلے پرراضی ہیں۔تونے ہمارے گلشن کے ایک معطر،معنبر،مشک بارپھول کوتوڑاہے،اس کانعم البدل بھی تیرے پاس ہے،جوجواس کے جانے سے متاثرہوئے ہیں یااللہ!سب کاتُوہی پُرسانِ حال ہے۔یااللہ!ہمارے عزیزدوست کوبیماری نے بہت گھائل کردیاتھا،تواُس سے کوئی حساب نہ لینا،بس اپنے سایہ رحمت میں ڈھانپ لے،قبرکی تمام راحتیں نصین فرما،زندگی کے اس تھکے ماندے مسافرکوفرشتے کہیں:نَمْ كَنَوْمَةِ الْعَرُوسِ۔پوری حدیث پڑھیے اورایمان تازہ کیجیے اوردُعاکیجیےکہ عادل بھائی کوبھی یہ بشارت نصیب ہو:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: “إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ إِنَّهُ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ، فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَانَتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَأْسِهِ، وَكَانَ الصِّيَامُ عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَتِ الزَّكَاةُ عَنْ شِمَالِهِ، وَكَانَتْ فُضُولُ الْأَعْمَالِ مِنَ الصَّدَقَةِ وَالصِّلَةِ وَالْمَعْرُوفِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى النَّاسِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَتَقُولُ الصَّلَاةُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ يَمِينِهِ فَيَقُولُ الصِّيَامُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى عَنْ شِمَالِهِ فَتَقُولُ الزَّكَاةُ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ فَتَقُولُ فُضُولُ الْأَعْمَالِ مِنَ الصَّدَقَةِ وَالصِّلَةِ وَالْمَعْرُوفِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى النَّاسِ: مَا قِبَلِي مَدْخَلٌ، فَيُقَالُ لَهُ: اجْلِسْ، فَيَجْلِسُ قَدْ مُثِّلَتْ لَهُ الشَّمْسُ قَدْ أَفَلَتْ، فَيُقَالُ لَهُ: أَرَأَيْتَكَ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ مَا تَقُولُ فِيهِ؟ وَمَا تَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ؟ فَيَقُولُ: دَعُونِي حَتَّى أُصَلِّيَ، فَيَقُولُونَ: إِنَّكَ سَتَفْعَلُ، أَخْبِرْنَا عَمَّا نَسْأَلُكَ عَنْهُ، أَرَأَيْتَكَ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ مَا تَقُولُ فِيهِ؟ وَمَا تَشْهَدُ بِهِ عَلَيْهِ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، فَيُقَالُ لَهُ: عَلَى هَذَا عِشْتَ وَعَلَى هَذَا مِتَّ وَعَلَى هَذَا تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَقْعَدُكَ لَوْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ، فَإِذَا رَأَى مَا فِي النَّارِ يُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا وَقَاكَ اللَّهُ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيَرَى مَا فِيهَا مِنَ النَّعِيمِ فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَقْعَدُكَ، وَيُقَالُ لَهُ: نَمْ، فَيَقُولُ: دَعُونِي حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي فَأُخْبِرَهُمْ، فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ كَنَوْمَةِ الْعَرُوسِ الَّذِي لَا يُوقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ، حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ مِنْ مَضْجَعِكَ ذَلِكَ”.ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو وہ اپنے دفنانے والوں کی جوتیوں کی آواز سنتی ہے جب وہ (قبرستان سے) لوٹتے ہیں۔ اگر وہ میت مومن ہو تو نماز اس کے سر کی طرف آتی ہے، روزہ اس کے دائیں جانب، زکوٰۃ اس کے بائیں جانب، اور نیک اعمال، جیسے صدقہ، صلہ رحمی، اور لوگوں سے بھلائی اس کے پاؤں کی طرف آتے ہیں۔ پھر مومن سے سوال کیا جاتا ہے کہ (تمہارا) اس شخص (محمد ﷺ) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تو وہ جواب دیتا ہے: “محمد، میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔” پھر اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھولا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے: “یہ تیرا ٹھکانا ہے”، اور اس سے کہا جاتا ہے: “سو جا، جیسے نئی دلہن سوتی ہے جسے صرف اس کے محبوب لوگ جگاتے ہیں”۔ میں تعزیت کرناچاہتاہوں،میں کس سے تعزیت کروں،میں توخودتعزیت کامستحق ہوں۔میرابھائی،میرایار،میرادوست،میراشاگردبچھڑگیاہے۔لوگو!آؤ،مجھ سے تعزیت کرو،میں سرسے پیرتک آج رنج والم اوردُکھ دردکی تصویرہوں۔میری آنکھیں اَشک بہارہی ہیں،ٹھیک ہے عادل سے میراکوئی خونی رشتہ نہیں تھا،لیکن میرااس سے روحانی رشتہ تھا،قلبی تعلق تھا،وہ ایک اچھی راہ کاراہی تھا،اچھی منزل کاساتھی تھا،اچھے مشن اورکازسے وابستہ تھا،نیک عزائم رکھتاتھا،بیمارونحیف مگرپُرحوصلہ اورباہمت تھا۔آخرمیں اُن تمام لوگوں سے تعزیتِ مسنونہ جن کامرحوم محمدعادل انصاری سے کسی قسم کارشتہ،تعلق،تعارف اورملاقات تھی۔إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ،إن العين تدمع والقلبُ يحزن، ولا نقولُ إلا ما يرضیٰ ربُّنا، وإنّا لفراقك لَمحزونون
59
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل