
خواتین رکشہ چلا رہی ہیں ـ بدلتے وقت کی حقیقت
تحریر: محمد فضیل انصاری
کچھ دن پہلے جب میں کنگنی والے سے شیرانوالہ باغ کی طرف سفر کر رہا تھا تو ایک ایسا منظر میری آنکھوں کے سامنے آیا جس نے مجھے حیران بھی کیا اور سوچنے پر بھی مجبور کیا۔ سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھی، لوگ اپنی منزل کی طرف تیزی سے بڑھ رہے تھے، گاڑیاں، موٹر سائیکلیں اور رکشے عام معمول کے مطابق ایک دوسرے سے سبقت لے رہے تھے۔ لیکن ان سب کے درمیان ایک رکشہ ایسا بھی تھا جسے ایک خاتون چلا رہی تھی۔ یہ منظر میرے لیے نیا تھا۔ لمحہ بھر کے لیے دل نے کہا کہ شاید یہ کوئی اتفاق ہے، لیکن قریب جانے پر معلوم ہوا کہ واقعی ایک عورت رکشہ ڈرائیور کی حیثیت سے کام کر رہی ہے۔ دل میں سوال جاگا کہ آخر یہ سب کیوں ہورہا ہے؟ ہماری وہ خواتین جو کبھی صرف گھروں کی زینت سمجھی جاتی تھیں، اب سڑکوں پر محنت مزدوری کرتی دکھائی دیتی ہیں، یہ تبدیلی کہاں سے آئی؟
معاشی دباؤ – بنیادی وجہ
اس سوال کا پہلا جواب ہمیں ہمارے اپنے حالات میں ملتا ہے۔ آج ہر شخص مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ اور روزمرہ کی ضروریات نے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ایسے میں صرف مرد کی کمائی پر گزارہ ممکن نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین بھی گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ بانٹنے کے لیے عملی میدان میں قدم رکھ رہی ہیں۔ رکشہ چلانا بظاہر ایک مشکل اور کٹھن کام ہے، لیکن جب حالات کی سختی انسان کو مجبور کرتی ہے تو وہ ہر رکاوٹ کو پار کرنے کا حوصلہ پیدا کرلیتا ہے۔
سماجی رویوں میں تبدیلی
ایک زمانہ تھا جب عورت کا کردار صرف گھر تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ اسے تعلیم، روزگار اور آزادی سے محروم رکھا جاتا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے رویے بھی بدلنے لگے۔ آج عورت نہ صرف تعلیم حاصل کر رہی ہے بلکہ ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہے۔ اس تبدیلی نے خواتین کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ رکشہ یا کوئی بھی ایسا پیشہ اختیار کریں جسے کبھی صرف مردوں کی اجارہ داری سمجھا جاتا تھا۔ خواتین رکشہ کیوں چلا رہی ہیں؟ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سی عورتیں اپنی مرضی اور اعتماد کے ساتھ یہ کام کرتی ہیں۔ ان کے دل میں یہ احساس ہے کہ وہ کسی کی محتاج نہیں رہنا چاہتیں۔ اپنی محنت سے عزت کی روٹی کمانا وہ زیادہ بہتر سمجھتی ہیں۔ یہ سوچ انہیں معاشرے میں باعزت مقام بھی دلاتی ہے اور دوسروں کے لیے مثال بھی قائم کرتی ہے۔
اسلام کا زاویہ
اسلام عورت کو کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا خود ایک کامیاب تاجرہ تھیں اور اپنی تجارت خود سنبھالتی تھیں۔ اسلام نے عورت کو قید نہیں کیا بلکہ حدود متعین کیں۔ اپنی عزت و پردے کے ساتھ عورت باہر نکل کر کام کر سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا رکشہ ڈرائیونگ میں پردہ ممکن ہے؟ دوران ڈرائیونگ مردوں کا ہجوم، مسلسل بات چیت اور بازار کی فضا عورت کو کس حد تک محفوظ رکھ سکتی ہے؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ معاشی مجبوری میں عورت ایک ایسی فیلڈ میں قدم رکھے جو اس کی عزت اور وقار کے لیے خطرہ بن جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ عورت کو صرف محنت کی اجازت ہی نہیں بلکہ تحفظ بھی دیا جائے۔
صرف رکشا ڈرائیونگ ہی کیوں؟
کیا عورت صرف رکشا ہی چلا سکتی ہے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ خواتین کے لیے الگ شعبے بنائے جائیں جہاں وہ اپنی صلاحیت کے مطابق آسان اور محفوظ ماحول میں کام کر سکیں؟ تعلیم، ہنر، کمپیوٹر، دستکاری، میڈیکل، ٹیچنگ، آن لائن ورک اور گھریلو صنعت جیسے کئی میدان موجود ہیں جنہیں فروغ دے کر عورت کو بہتر متبادل دیا جا سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ عورت رکشا چلا کر اپنی محنت کی کمائی کھا رہی ہے لیکن اس فیلڈ میں اسے مردوں کے ہجوم، بدزبانی اور دیگر مسائل کا بھی سامنا رہتا ہے۔
خواتین کے لیے نئی مثال
یہ بھی حقیقت ہے کہ آفس یا دیگر اداروں میں کام کرنے والی خواتین کو اکثر اپنے بوس یا کولیگز کے ہاتھوں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے لیے اپنی عزت اور وقار بچانا ایک مسلسل جدوجہد بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک خاتون جو رکشا چلا رہی ہے، وہ خود مختار ہے، کسی بوس یا کولیگ کی پابند نہیں۔ وہ اپنی محنت اور ہمت سے بچوں کے لیے روزی روٹی کما رہی ہے۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو وہ عورت اپنے آپ کو زیادہ محفوظ اور آزاد سمجھتی ہے۔ یہ رویہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عورت میں حوصلہ ہے، ہمت ہے اور خودداری ہے۔
معاشرے کے لیے پیغام اور سوالیہ نشان
یہ منظر ہمارے لیے ایک پیغام ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ عورت کمزور نہیں، بلکہ وہ حالات کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ ایک سوال بھی چھوڑ جاتا ہے کہ کیا خواتین یہ سب اپنی خوشی سے کر رہی ہیں یا حالات نے انہیں مجبور کیا ہے؟ اگر ہمارے معاشی حالات بہتر ہوتے، اگر ہر مرد باعزت روزگار کما سکتا تو کیا عورت کو سڑکوں پر رکشا چلانے کی ضرورت پیش آتی؟ یہ سوال صرف معاشرے کے لیے نہیں بلکہ ہمارے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
وہ منظر جو میں نے کنگنی والے سے شیرانوالہ باغ جاتے ہوئے دیکھا، میرے ذہن میں کئی سوال چھوڑ گیا۔ خواتین کا رکشہ چلانا ایک طرف ان کے حوصلے اور خود انحصاری کی دلیل ہے، لیکن دوسری طرف یہ ہمارے معاشی اور سماجی مسائل کا بھی عکاس ہے۔ وقت کی آواز یہی ہے کہ ہم اپنی خواتین کو صرف ہمدردی کی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ ان کے لیے محفوظ مواقع پیدا کریں تاکہ وہ محض مجبوری میں نہیں بلکہ اپنی خوشی اور عزائم کے ساتھ زندگی کے میدان میں آگے بڑھ سکیں۔