67

کہانی عنوان کتابی چاچا /تحریر روحی امجد/جدہ

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے

ساقی شاعر۔ علامہ اقبال کتاب۔ بال جبریل۔۔۔۔۔۔۔

احمد دس سال کا ایک بہت پیارا بچہ تھا۔ ایک دن اسکول سے واپسی پر بہت پرجوش تھا۔ گھر پہنچتے ہی امی کو زور زور سے آوازیں دیں۔امی! امی! ” آپ کہاں ہیں، جلدی سے آئیں دیکھیں تو میں کسے اپنے ساتھ لایا ہوں”امی جلدی سے باورچی خانے سے ہاتھ پونچھتی ہوئ باہر آئیں اور پوچھا،” کیا بات ہے بیٹا، کون آیا ہے، آپ بہت پرجوش نظر آ رہے ہو “؟ایک صاف ستھرا بوڑھا آدمی احمد کے ساتھ تھا، جس نے رنگ برنگی کتابوں کا ایک بنڈل اٹھایا ہوا تھا۔احمد! ” امی یہ ہمارےوہ کتابی چاچا ہیں،جن کے بارے میں میں نے آپ سے ذکر کیا تھا، یہ ہمارے اسکول کے باہر کتابوں کا اسٹال لگاتے ہیں اور ہمیں مزے مزے کی چیزیں کھانے کے لئے بھی دیتے ہیں” ۔امی! ” اچھا ! تو یہ ہیں تمہارے کتابی چاچا ! اسلام علیکم بھائ صاحب آپ آرام سے بیٹھیں ،میں کچھ پینے کے لئے لاتی ہوں۔” کتابی چاچا، ” وعلیکم السلام “امی نے پنکھا چلایا، کتابی چاچا نے کتابوں کا بنڈل نیچے رکھا اور صوفہ پر ٹیک لگا کر آ رام سے بیٹھ گئے، امی ان کے لئے شربت لائیں اور کہا،”مجھے احمد نے آپ کے بارے میں بتایا تھا کہ آ پ بہت محنتی آدمی ہیں اور بچوں میں بڑے مقبول ہیں، ان بچوں نے آپ کا اچھا نام رکھا ہے، کتابی چاچا۔”آدمی مسکراتے ہوئے،” یہ تو ان کی محبت ہے۔” امی! “آپ کو اس کام کا خیال کیسے آیا ؟ آج کل تو زیادہ تر لوگ اپنا وقت موبائل پہ گزارتے ہیں۔”کتابی چاچا!” ہاں بہن ، ریٹائرمنٹ کے بعد بہت فرصت تھی، سوچا کہ بچوں کی تربیت کے حوالے سے کچھ کام کروں ،اس سلسے میں اسکول کے پرنسپل سے مشورہ کیا، اس خیال پر کام کیا کہ بچوں کو کتابیں پڑھنے کی طرف راغب کیا جائے،باتوں باتوں اور کھیل کھیل میں ان کیتربیت بھی کی جائے۔ اس لئے اسکول کے ساتھ ہی کتابوں کا ایک خوبصورت سااسٹال لگایا ہے، چھوٹی سی لائبریری ہی سمجھ لیں،ساتھ ہی بچوں کی پسند کی کچھ کھانے پینے کی چیزیں بھی رکھ لی ہیں۔ بچے شوق اور دلچسپی سے میرے پاس آ تے ہیں، میں ان کو نئ نئ کتابیں پڑھنے کے لئے دیتا ہوں۔”احمد ، ” جی امی کتابی چاچا بہت اچھے ہیں یہ ہمیں اچھی اچھی کتابیں پڑھنے کے لئے دیتے ہیں اور کچھ سمجھ نہ یے تو ہمیں سمجھاتے ہیں ، شام کو کھیل کے میدان میں ہمارا کھیل دیکھنے بھی آتے ہیں۔ہمیں اچھی اچھی باتیں بھی سکھاتے ہیں۔ پچھلے ہفتے ہم سے میدان میں نئے پودے بھی لگوائے ہیں۔”امی،” جب سے احمد آپ سےملنے لگا ہے اس میں بہت مثبت تبدیلیاں آرہی ہیں اور اس کی اردو، (جس کے لئے میں بہت پریشان رہتی تھی کیونکہ اسکول میں سب مضامین انگلش میں پڑھا رہے ہیں) وہ بھی بہت بہتر ہوتی جا رہی ہے۔”کتابی چاچا،” بہن یہ شاہین صفت بچے ہیں، ان کو بس زرا سی رہنمائ کی ضرورت ہے، درست سمت میں ان کا رخ ہوجائے پھر دیکھیں یہ کتنا اونچا اڑتے ہیں۔یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں مجھے ان سے بڑی امیدیں ہیں۔اقبال نے فرمایا،”زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔”امی، ” آپ بہت اچھا کام کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو اس مقصد میں کامیاب کریں ۔ آمین۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں