70 کشتیوں کا قافلہ استقامت/تحریر/ضیاء چترالیہم نہ باز آئیں گے محبت سے، جان جائے گی اور کیا ہوگا؟ غزہ کے محاصرہ شکن عالمی قافلے کی روانگی۔
ہسپانوی بندرگاہ بارسلونا میں کل ایک تاریخی منظر دیکھنے کو ملا، جب ’’اسطول الصمود‘‘ یعنی قافلہ استقامت کی تیاریاں اپنے آخری مراحل میں داخل ہو گئیں۔ کل 31 اگست کو درجنوں کشتیوں پر مشتمل یہ عظیم عالمی بیڑہ غزہ کی سمت روانہ ہوگا، جس کا مقصد قابض اسرائیل کے وحشیانہ محاصرے کو توڑنا اور محصور فلسطینی عوام تک انسانی ہمدردی کا پیغام پہنچانا ہے۔ اس قافلے میں دنیا کے 44 ممالک سے تعلق رکھنے والے کارکن شامل ہیں، جن میں سویڈن کی مشہور ماحولیاتی کارکن گریٹا تھونبرگ اور پرتگال کی بائیں بازو کی معروف سیاست دان ماریانا مورتگوا بھی شریک ہیں۔ پاکستان کی نمائندگی جماعت اسلامی کے رہنما اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کر رہے ہیں، جو تیونس سے قافلے میں شامل ہوں گے۔
قافلے کے منتظمین نے بتایا کہ یہ بیڑہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا محاصرہ شکن بحری قافلہ ہے جو تقریباً 70 کشتیوں پر مشتمل ہے۔ پہلا قافلہ بارسلونا سے 31 اگست کو روانہ ہوگا، جبکہ دوسرا 4 ستمبر کو تیونس سے غزہ کی طرف رخ کرے گا۔ شریک کارکنان کو خصوصی تربیت دی گئی ہے تاکہ وہ قابض اسرائیلی افواج کی کسی بھی ممکنہ جارحیت کا سامنا کر سکیں۔ یہ اقدام محض امدادی سامان لے جانے کا نہیں بلکہ ایک علامتی و عملی احتجاج ہے جو دنیا بھر کے عوام کو فلسطینی جدوجہد آزادی سے جوڑنے کی کوشش ہے۔ ان کشتیوں میں صرف خوراک، ادویات اور اشیائے ضرورت ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے لکھے گئے لاکھوں خطوط اور یکجہتی کے پیغامات بھی شامل ہیں جو اس سفر کو ایک عظیم انسانی داستان بنا دیتے ہیں۔
ماضی کے قافلے اور خونیں یادیں:
2010 ء کے ترک قافلے ’’ماوی مرمرہ‘‘ پر اسرائیلی بحریہ نے حملہ کر کے 10 ترک کارکنوں کو شہید کر دیا تھا، جس پر پوری دنیا میں شدید احتجاج ہوا۔ اس المناک واقعے کی یاد آج بھی تازہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ شرکاء کو پہلے ہی سے اس بات کے لیے تیار کیا گیا ہے کہ قابض فوج کی رکاوٹوں کے باوجود وہ اپنی منزل سے باز نہ آئیں۔ اس وقت ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں زبردست تناؤ پیدا ہوا تھا اور کئی برسوں تک دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع رہے۔ اسی واقعے کے بعد دنیا بھر میں محاصرہ شکن قافلوں کی تحریک کو مزید توانائی ملی اور یہ مسئلہ عالمی ضمیر کے دروازے پر جا پہنچا۔
گزشتہ پندرہ برسوں میں متعدد بار یورپی، عرب اور ایشیائی ملکوں سے امدادی قافلے روانہ کیے گئے، لیکن اسرائیل نے اکثر اوقات انہیں روک کر کارکنان کو گرفتار کیا، کشتیوں کو ضبط کیا اور سامان تک پہنچنے نہ دیا۔ اس کے باوجود ہر بار ان قافلوں نے دنیا بھر کے انصاف پسند عوام کو یہ باور کرایا کہ فلسطینی عوام تنہا نہیں۔ یہی اصل کامیابی تھی جو قابض فوج کے ظلم و جبر کے باوجود دنیا کو فلسطین کی کہانی سناتی رہی۔
شرکاء کے جذبات اور عالمی ضمیر کی پکار:
قافلے میں شامل فلسطینی کارکن سیف ابو کشک نے کہا کہ یہ محض کشتیوں کا سفر نہیں، بلکہ ایک انسانی اور اخلاقی جدوجہد ہے جس کا مقصد عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گیند اب عالمی برادری کے کورٹ میں ہے، اگر دنیا واقعی انسانی حقوق کی مدعی ہے تو اسرائیل کو غزہ کے محاصرے سے باز رکھنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
سویڈن کی گریٹا تھونبرگ نے بارسلونا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ قافلہ ماحولیاتی انصاف اور انسانی انصاف دونوں کا نمائندہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں بچے صاف پانی اور خوراک سے محروم ہیں، اور یہ بحران انسانی تاریخ پر ایک بدنما داغ ہے۔ پرتگالی سیاستدان ماریانا مورتگوا نے کہا کہ یہ جہاز محض فلسطینیوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کی آزمائش ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے طاقتور ممالک اگر خاموش رہتے ہیں تو یہ ان کے اپنے اخلاقی دیوالیہ پن کا اعلان ہوگا۔
پاکستانی نمائندے سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے عوام دل و جان سے فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں اور یہ قافلہ اس یکجہتی کا عملی اظہار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کی آزادی اور غزہ کے محاصرے کا خاتمہ پوری امت مسلمہ کا مشترکہ فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اسکولوں اور جامعات میں طلبہ نے بھی اس قافلے کے لیے خیرسگالی کے پیغامات روانہ کیے ہیں۔ پاکستانی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق سینیٹر نے بتایا کہ یہ فلوٹیلا 4 ستمبر کو تیونس کے دارالحکومت سے روانہ ہوگا، جو تاریخ کی سب سے بڑی شہری امدادی مہم ہے، ہمیں یکم سے 3 ستمبر تک تیونس میں جہاز پر تربیت دی جائے گی، اس مہم میں 50 سے زائد ممالک کے 100 سے زیادہ جہاز شامل ہیں، یہ شہریوں کی قیادت میں سب سے بڑی انسانی ہمدردی کی کارروائی ہے۔ غزہ جانے کے اس سفر کے خطرات پر بات کرتے ہوئے سابق سینیٹر نے تین ممکنہ نتائج بیان کیے، ان کا کہنا تھا کہ پہلا امکان یہ ہے کہ ہم کامیابی کے ساتھ غزہ پہنچ جائیں اور محاصرہ توڑ کر دنیا کو اصل صورت حال دکھا دیں، دوسرا امکان یہ ہے کہ اسرائیل ہمیں گرفتار کر کے ملک بدر کر دے۔ تیسرا امکان موت کا بھی ہے، کیونکہ ماضی میں اسرائیل نے فلوٹیلا پر حملہ کر کے لوگوں کو قتل کیا ہے، ان کے مطابق ہم اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر جا رہے ہیں تاکہ دنیا کی توجہ غزہ کی نسل کشی کی طرف مبذول ہو اور یہ ظلم بند ہو۔
غزہ کا المناک پس منظر:
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک 63 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ انسٹھ ہزار زخمی ہو چکے ہیں جبکہ قحط اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے نتیجے میں سینکڑوں بچے اور خواتین جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسپتالوں میں ادویات کی شدید قلت ہے، بیشتر عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور لاکھوں لوگ خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ عالمی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ میں انسانی المیہ تیزی سے بدترین سطح کو چھو رہا ہے۔ ایسے حالات میں اسطول الصمود کی روانگی محاصرہ شکن جدوجہد کا ایک نیا باب ہے۔
عالمی ردعمل اور اسرائیل کی ممکنہ حکمت عملی:
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اسرائیل پہلے ہی اس قافلے کے بارے میں الرٹ ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صہیونی بحریہ دوبارہ طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کرے گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ایک بار پھر عالمی سطح پر اسرائیل کو سخت مذمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے بعض نمائندوں نے قافلے کو تحفظ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے، لیکن تاحال کوئی ٹھوس ضمانت سامنے نہیں آئی۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل ان کشتیوں کو روکتا ہے تو اس سے اس کے وحشیانہ طرز عمل مزید بے نقاب ہوگا اور اگر انہیں جانے دیتا ہے تو یہ فلسطینی عوام کی اخلاقی فتح ہوگی۔
قافلے کے منتظمین نے واضح کیا ہے کہ ان کا مقصد کسی ملک سے ٹکراؤ نہیں بلکہ انسانی حقوق کی پاسداری ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر اسرائیل واقعی بے گناہ ہے تو اسے امدادی سامان اور کارکنوں کو غزہ تک جانے دینا چاہیے۔ بصورت دیگر دنیا خود فیصلہ کر لے کہ قابض اور مظلوم میں فرق کس طرح کیا جائے۔