میدانی دریاؤں پر سیلاب سے کیسے نِپٹیں؟/تحریر/انجینیئر ظفر اقبال وٹو 0

میدانی دریاؤں پر سیلاب سے کیسے نِپٹیں؟/تحریر/انجینیئر ظفر اقبال وٹو

میدانی دریاؤں پر سیلاب سے کیسے نِپٹیں؟/تحریر/انجینیئر ظفر اقبال وٹو

آج کل پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب چل رہا ہے تو ہر جگہ سوال ہوتا ہے کہ اگر میدانی دریاؤں (ستلج، راوی اور چناب )پر ڈیم نہیں بن سکتے تو پھر سیلاب کا کیا کریں؟

چند قابلِ غور تجاویز کُچھ اس طرح ہیں۔

1- ہر میدانی دریا پر پہلے سے ہی دو یا تین بیراج موجود ہیں جن پر اضافی کام کرکے 50 ہزار ایکڑ فٹ تک کی آف لائن سٹوریج بنائیں۔ اس طرح ان دریاؤں پر پہلے سے موجود سات بیراجوں پر کلُ تقریباً 3 لاکھ ایکڑ فٹ تک کی سٹوریج بن سکتی ہے جو سیلابوں کا زور توڑنے میں مدد گار ہوگی۔ یاد رہے کہ ایک لاکھ ایکڑ فٹ سٹوریج کا مطلب ہے کہ آپ نے سیلابی ریلے میں سے ایک دن میں 50 ہزار کیوسک پانی باہر نکال لیا۔

2- میدانی دریاؤں پر ہر 100 کلومیٹر کے فاصلے کے بعد ایک ایک اضافی بیراج بنائیں جن پر آف لائن سٹوریجز ہوں۔ اس طرح کم ازکم ڈیڑھ لاکھ ایکڑ فٹ کی مزید سٹویج حاصل ہوسکتی ہے۔ اس طریقے سے اگر ہر بیراج سیلابی ریلے کی شدت کو ایک دن میں 50 ہزار کیوسک کم کرتا جائے تو ایک دریا پر 4 بیراجوں سے سیلابی ریلے سے ایک دن میں 1 سے 2 لاکھ کیوسک تک پانی روکا جاسکتا ہے۔ یہ آپشن دریائے ستلج اور راوی کے لئے تو بہت کارآمد رہے گا جہاں دریا میں سیلابی ریلے سے 1 لاکھ کیوسک بھی کم کر لیا جائے تو بہت ریلیف مل جاتا ہے اور بہت سا نقصان بچایا جا سکتاہے۔

3- اس وقت پاکستان میں صرف 1 جگہ چشمہ بیراج پر 4 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے جس کی وجہ سے یہ بیراج تربیلا سے نکلنے والے سیلابی ریلوں کی شدت 1 تا 2 لاکھ کیوسک تک کم کر دیتا ہے۔ اضافی پانی، بجلی ، ماہی گیری، زیرِ زمین پانی کے ریچارج اور ماحولیات کے فائدے اس کے علاوہ ہیں۔

4- ایک اور اہم تجویز یہ ہے کہ دریائے ستلج اور راوی کا پانی ایک صدی سے متروک سُکھ بیاس چینل میں ڈالا جاسکتا ہے جو کسی زمانے میں دریائے بیاس کی پُرانی گزرگاہ بھی تھی۔ یہ چینل باری دوآب کے وسط میں دریائے راوی اور دریائے چناب کے متوازی چلتا ہے۔ اس طرح کے منصوبے سے نہ صرف ان دونوں دریاؤں سے سیلابی پانی کے حجم کو کم کیا جاسکے گا بلکہ سکھ بیاس چینل کی زیرِزمین ایکوائفر بھی ایک دفعہ پھر ریچارج ہونا شروع ہوجائے گی۔

5۔ دریائے چناب پر چنیوٹ کے مقام پر چنیوٹ ڈیم فورا تعمیر کیا جائے۔ اگر یہ ڈیم چشمہ جھیل جتنا پانی بھی سنبھال لے تو نہ صرف تریموں، پنجند، گدو، سکھر بیراج پر سیلابی ریلوں دباؤ کم ہوگا بلکہ جھنگ، ملتان، مظفر گڑھ جیسے علاقے بھی سیلاب سےمحفوظ ہو جائیں گے۔

6- اسی طرح میدانی دریاؤں کے کناروں پر تمام بنجر، ناکارہ اور نشیبی زمینیں تلاش کرکے ان میں 5 تا 10 فُٹ گہرے تالاب جھیلیں بنا کر آف لائن سٹوریجز بنا دی جائیں جو سیلاب کے پانی سٹور کرنے کے لئے ہوں۔

7۔ دریائے ستلج سے صحرائی چولستان میں واٹر سپریڈنگ یا پانی پھیلانی والی سیلابی ندیاں بنا دی جائیں۔ دریائے جہلم سے صحرائے تھل میں پانی پھیلانے والی ندیاں بھی بنائی جائیں۔

11۔ نالہ بھمبر پر ڈیم بنایا جائے جس سے دریائے چناب پر سیلاب کا دباؤ کم ہوگا۔

میدانی دریاؤں پر سیلاب سے کیسے نِپٹیں؟/تحریر/انجینیئر ظفر اقبال وٹو
سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں/تحریر/عمار خان یاسر/اینکر پرسن فوکس میڈیا
سیلاب زدگان کی مدد اور ہمارا کردار / تحریر / معلمہ صبيحلہ خانم / کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں